امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ سے علیحدگی اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدتِ صدارت کے اختتام تک اپنے عہدے پر فائز رہنا ان کا منصوبہ ہے۔
نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں وضاحت
نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے لیے ان کی مدتِ صدارت کے اختتام تک کام کرنا “ہمیشہ سے میرا منصوبہ” رہا ہے۔ انہوں نے ان خبروں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ایسی اطلاعات کہاں سے آ رہی ہیں۔
2028 کے صدارتی انتخابات سے متعلق سوالات سے گریز
مارکو روبیو، جو صدر ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں، کو 2028 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم، انہوں نے اپنے سیاسی مستقبل سے متعلق سوالات کے جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب 2028 کے بارے میں مزید بات نہیں کریں گے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کی تردید
واضح رہے کہ جمعرات کے روز بلومبرگ نیوز نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ روبیو انتظامیہ چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں اور انہوں نے اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کے حکام سے بات بھی کی تھی۔ تاہم، امریکی محکمہ خارجہ نے ان رپورٹس کو مسترد کر دیا ہے۔
محکمہ خارجہ کا سخت ردعمل
محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری برائے عالمی عوامی امور ڈیلن جانسن نے بلومبرگ کی رپورٹ کو “مکمل طور پر من گھڑت” قرار دیا۔ انہوں نے دی انڈیپنڈنٹ کی اس رپورٹ کو بھی مسترد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ روبیو 2028 میں ریپبلکن صدارتی نامزدگی کے لیے مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جانسن نے اسے “مکمل طور پر بے بنیاد جعلی خبر” قرار دیا۔
وینس کی ممکنہ امیدواری
قابل ذکر ہے کہ مارکو روبیو پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر نائب صدر جے ڈی وینس صدارتی انتخابات میں حصہ لیں تو وہ ان کی حمایت کریں گے۔ جے ڈی وینس کو بھی 2028 کے انتخابات میں ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
- مارکو روبیو نے ٹرمپ انتظامیہ چھوڑنے کی خبروں کی تردید کی
- نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں عہدے پر رہنے کے عزم کا اظہار
- محکمہ خارجہ نے بلومبرگ اور انڈیپنڈنٹ کی رپورٹس کو مسترد کیا
- روبیو نے 2028 کے انتخابات سے متعلق سوالات کے جوابات سے گریز کیا
