پیرس: فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جاری مظاہروں اور ہڑتالوں کے سلسلے نے شہر کے تاجروں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان تاجروں کا کہنا ہے کہ صرف وہ دکانیں متاثر نہیں ہو رہیں جنہیں توڑ پھوڑ یا لوٹ مار کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ ان علاقوں میں بھی گاہکوں کی آمد نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے جہاں مظاہرین کے جلوس کبھی نہیں گزرتے۔
پیرس کے چودہویں ضلع میں واقع چینی کے برتنوں کی ایک بڑی دکان کے کیش کاؤنٹر پر کھڑے بینوا کا کہنا ہے کہ دکان مکمل طور پر خالی ہے اور باہر فٹ پاتھ پر بھی لوگوں کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیاح ہوں یا پیرس کے رہائشی، سڑکیں تقریباً ویران ہو گئی ہیں، خاص طور پر اس ہفتے، اور ہمیں امید ہے کہ معاملہ یہیں رک جائے گا ورنہ صورتحال تباہ کن ہو گی۔
ڈیلیوری میں تاخیر اور گاہکوں کی ہچکچاہٹ
تاجروں کے مطابق ایک اور مسئلہ ڈیلیوری میں تاخیر کا ہے۔ بینوا کے مطابق انہیں لیموژ سے سامان کی ترسیل ہوتی ہے اور اس نوعیت کی تحریک کے دوران ترسیل متاثر ہونا فطری ہے، جس کی وجہ سے سامان کی کمی بھی ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب گاہک بھی مظاہروں کے دنوں میں پیرس آنے سے گریز کر رہے ہیں، کیونکہ شہر میں آمدورفت مشکل ہو جاتی ہے۔
بریگیٹ نامی ایک تاجر خاتون، جو اپنے خاندانی ملبوسات کی چھوٹی دکان چلاتی ہیں، بتاتی ہیں کہ ان کی مستقل گاہکیں کرسمس کے قریب بھی دکان آنے سے ہچکچا رہی ہیں اور زیادہ تر آن لائن خریداری کو ترجیح دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق اب تحائف کے لیے واٹس ایپ پر رابطے اور ویڈیوز بھیجی جاتی ہیں، کام کا انداز مکمل طور پر بدل چکا ہے، حالانکہ انہیں گاہکوں کا دکان میں آنا زیادہ پسند تھا۔
آن لائن فروخت اس کمی کی تلافی نہیں کر پا رہی، اسی لیے بریگیٹ نے صورتحال معمول پر آنے تک اپنے سپلائرز سے ادائیگیوں میں مہلت مانگی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ صورتحال انتخابات تک جاری رہ سکتی ہے۔
“ہالووین پر سب کچھ سجایا، کوئی گاہک نہیں آیا”
کچھ گلیوں کے فاصلے پر ایک ریستوران کی باورچی خانے کی صفائی کرتی ہوئی سمیرا تلخ مسکراہٹ کے ساتھ بتاتی ہیں کہ آج کے دن یہ کام انہوں نے چھتیسویں بار کیا ہے، کیونکہ پیش کرنے کے لیے کوئی گاہک ہی نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہالووین کی ہفتے کی رات انہوں نے پوری جگہ سجائی، ہاتھ کی شکل کا پیزا بھی بنایا، مگر صرف چار گاہک آئے۔ انہیں امید ہے کہ کرسمس کے تہواروں کے آغاز سے کاروبار بحال ہو جائے گا۔
تاجروں کی حکومت اور مظاہرین سے اپیل
چودہویں ضلع کے تاجروں کی نمائندگی کرنے والے تھیری ویرون نے مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ کرسمس کے موقع پر خریداری ممکن بنانے کے لیے “مٹھائی فروشوں کی صلح” یعنی کرسمس اور نئے سال کے درمیان عام طور پر رہنے والی سکون کی روایت بحال رکھی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیرس کے تمام تاجروں کو، نہ صرف انہیں جن کی دکانیں مظاہروں کے راستوں پر ہیں، اب سے جنوری کے آخر تک ہر اتوار کو دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ نقصان کی کچھ تلافی ہو سکے۔
واضح رہے کہ حکومت نے جمعرات پانچ نومبر کو اعلان کیا تھا کہ پیرس میں جاری تحریک کے تناظر میں پیر کے روز ایک سماجی کانفرنس بلائی جائے گی تاکہ عوامی غیظ و غضب کو ختم کرنے کے لیے جلد از جلد حل تلاش کیا جا سکے۔
