geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
September 11, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Fuel Poverty Grips France as Millions Skip Meals and Heatingفرانس میں توانائی کی غربت: 62 فیصد شہری مفلسی کے خطرے سے دوچار
    • French High Schools Brace for Chaotic Phone Ban Rolloutفرانس میں ہائی اسکول سے موبائل فون پر پابندی کا اعلان، لیکن عملی نفاذ ایک بڑا چیلنج
    • Pakistan Armed Forces Honor Rashid Minhas on 55th Martyrdom Anniversaryپاک فوج کی جانب سے راشد منہاس شہید کو ان کی 55ویں شہادت پر شاندار خراج عقیدت
    صحت و تندرستی
    • West Nile Virus Emerges North of France's Loire Riverوائرس نل مغربی: فرانس کے شمال میں پہلا مریض، کیا آپ خطرے میں ہیں؟
    • France Weather: Heat Returns for Back-to-School Weekیکم ستمبر سے اسکول واپسی پر موسم کیسا رہے گا؟ بارش کے بعد گرمی کی لہر واپس آنے کا امکان
    • Heatwaves: The Hidden Health Toll of Extreme Summersبار بار گرمی کی لہروں کے انسانی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
    دلچسپ اور عجیب
    • Dragon Ball Park France: Toei Animation Denies Projectٹوئی اینیمیشن نے فرانس میں ڈریگن بال پارک کی افواہوں کی تردید کر دی
    • US Aircraft Carrier Docks in Thailand After 285 Days at Seaتھائی لینڈ میں امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی آمد، 285 دن بعد ساحلی قصبے میں رونق
    • Australian Woman Gives Birth to Twins with Different Parentsآسٹریلیا میں ایک خاتون نے جڑواں بچوں کو جنم دیا جن کے والدین الگ الگ تھے
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Apple Unveils First Foldable iPhone Duo Starting at $2,000ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون ڈو: 2,000 ڈالر کی قیمت، 23 اکتوبر سے دستیابی
    • OpenAI Scientist Warns AI Outpacing Global Preparedness# اوپن اے آئی کے چیف سائنسدان کا انتباہ: دنیا اے آئی کی تیزرفتار ترقی کے لیے تیار نہیں
    • Data Centers Threaten Trump's Midterm Majorityڈیٹا سینٹرز کا طوفان: کیا یہ بڑی عمارتیں ٹرمپ کی کانگریس میں اکثریت چھین لیں گی؟
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

بوسنیا میں پھر قوم پرست اور اشتعال انگیزی کے خطرات

January 15, 2022 0 1 min read
Bosnia
Share this:

Bosnia

بوسنیا (اصل میڈیا ڈیسک) مغربی بلقان کی ریاستوں پر قوم پرستی کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ سربیائی قوم پرستوں کی طرف سے اس کثیرالنسل خطے میں تنازعات کو پھر ہوا دی جا رہی ہے۔ اس صورتحال میں یورپی یونین کی سرد مہری پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔

بوسنیا اور ہرزیگووینا دو خود مختار ریاستیں ہیں۔ ایک کو فیڈریشن آف بوسنیا اور دوسرے کو سرپسکا ریپبلک کہا جاتا ہے۔ مغربی بلقان کے اس خطے میں علیحدگی پسند رجحانات اور کوششوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں حال ہی میں بوسنیائی سرب ریپبلک، ریپبلکا سرپسکا کی قیادت نے جمہوریہ سرپسکا کا قومی دن منایا۔ اس سال جمہوریہ سرپسکا کے اعلان کے تاریخی واقعے کے 30 برس مکمل ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ بوسنیا کی جنگ سے ایک روز قبل پیش آیا تھا۔

اس موقع پر بوسنیا اور ہرزیگووینا کی مشترکہ فیڈریشن کی ریاستی صدارت کے رکن میلوراڈ ڈوڈک کے بیانات قابل تشویش تھے۔ بوسنیائی سرب سیاستدان میلوراڈ کی پارٹی کا نام ”الائنس آف انڈیپینڈنٹ سوشل ڈیموکریٹس‘‘ AISD ہے۔ انہوں نے 9 جنوری کو جمہوریہ سرپسکا کے قومی دن کے موقع پر اپنے بیان میں کہا،”ہر قومی تحریک کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے، اپنی ایک ریاست قائم کرنا اور ہماری قومی تحریک بھی بالکل یہی چاہتی ہے۔ جمہوریہ سرپسکا میں رہنے والے کسی بھی باشندے کو اس بارے میں شکوک و شبہات نہیں رکھنے چاہییں کہ آیا یہ ممکن ہے؟ یقیناً یہ ممکن ہے۔‘‘

بوسنیا اور ہرزیگووینا کی جمہوریہ کا نقشہ
قومی دن کی تقریبات کے موقع پر ہونے والا ملٹری مارچ محض پریڈ نہیں تھی۔ اسے بوسنیائی ریاست کے خلاف اعلان جنگ اور مغربی بلقان میں امن کے منافی عمل خیال کیا گیا۔ گزشتہ کئی مہینوں سے سرب لیڈر ڈوڈک ملک کے اس حصے کی علیحدگی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اس علاقے پر ان کا مکمل کنٹرول ہے۔ برسوں سے وہ 9 جنوری کو ‘ریپبلکا سرپسکا ڈے‘ مناتے رہے ہیں۔ حالانکہ بوسنیا کی آئینی عدالت نے اس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ یہ تاریخ بوسنیا کی جنگ سے پہلے سال 1992ء میں ریپبلکا سرپسکا کے اعلان کی نشان دہی کرتی ہے۔ ریپبلکا سرپسکا کے قیام کے اعلان کے تاریخی واقعے کے فوراً بعد ہی سے غیر سربوں کے خلاف مجرمانہ سلوک، ان کی بےدخلی، اجتماعی قتل، اجتماعی عصمت دری جیسے جرائم کا بازار گرم ہو گیا تھا۔ یہ حالات 1995ء جولائی کے ماہ میں سربرینیتسا میں نسل کُشی پر منتج ہوا۔

دیگر علاقائی لیڈروں کا رویہ
ہنگری کے وزیر اعظم اور وکٹر اوربان نے حال ہی میں ریپبلکا سریپسکا ) آر ایس( کے دارالحکومت بنیا لوکا میں علیحدگی پسند سرب لیڈر ڈوڈک سے ملاقات کی اور آر ایس کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ وکٹر اوربان اور سلووینیا کے وزیر اعظم یانس ژانشا کو ایک ایسے دھماکہ خیز “Non-Papers” کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے جس میں سابق یوگو سلاویہ کی ریاستوں کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کی بات کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں یہ دونوں سیاستدان سربیائی قوم پرستی سے عبارت ‘اسلامو فوبک‘ یا مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر مبنی پالیسیوں کے حامی ہیں۔

میلوراڈ ڈوڈک کئی مہینوں سے اپنی بیانات میں ”سربیائی دنیا‘‘ کے اتحاد کا راگ الاپ رہے ہیں۔ اس اصطلاح کا مطلب ایک وسیع تر سرب نواز پالیسی کے ایک نئے تصور کو پیش کرنا ہے۔ اسی سیاست کا نتیجہ 1990ء میں شروع ہونے والی جنگ تھی، جس میں قریب ایک لاکھ بیس ہزار انسانوں کی جانیں گئیں۔ انسانوں کو در بدر کرنے اور ہزاروں کو نیست و نابود کرنے کی اس سیاست ہی کا نتیجہ جمہوریہ سرپسکا کا قیام ہے۔ بوسنیا کے دارالحکومت میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔

ڈوڈک کی حالیہ ‘نفرت انگیز‘ تقریر رائیگاں نہیں گئی۔ رواں برس کے آغاز پر سات جنوری کو آرتھوڈوکس مسیحیوں کی کرسمس کی تقریبات کے موقع پر بوسنیا اور سربیا کے کئی شہروں میں قوم پرستوں نے نفرت انگیز گیت گائے۔ جن کے الفاظ کچھ اس طرح کے تھے،” آج کرسمس ہے، مساجد کو گولی مارو۔‘‘

اس وقت اس خطے میں وہ نسلی اقلیتیں، جو جنگ کے دوران سربیا کے زیر قبضہ بوسنیا سے فرار ہوئی تھیں اور ‘ڈے ٹن‘ معاہدے کے تحت بعد میں اپنے علاقوں کی طرف لوٹی تھیں، تحفظات کا شکار ہیں۔

خاموش تماشائی بنیں یا رد عمل ظاہر کریں؟
موجودہ حالات میں بوسنیا کی آبادی میں مزید بے چینی اور اشتعال کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ دس جنوری کو یعنی جمہوریہ سرپسکا کے قومی دن کی پریڈ کے ایک روز بعد بنیا لوکا میں متعلقہ شہری سرائیوو میں طے پانے والے ڈے ٹن امن معاہدے کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار اعلیٰ عہدیدار اور نمائندے کے دفتر کے سامنے اکٹھا ہوئے۔ مظاہرین نے بلند آواز میں پابندیوں کا مطالبہ کیا۔

یورپ کے کئی دیگر شہروں میں بھی ہزاروں افراد نے سڑکوں پر نکل کر بوسنیا میں اشتعال انگیزی پھیلانے والوں کے خلاف مظاہرے کیے۔

Share this:
Corona Epidemic
Previous Post کورونا وبا: ’جرمنی جتنا نقصان کسی دوسری یورپی معیشت کا نہیں ہوا‘
Next Post سوڈان، فوجی انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے بدستور جاری
Sudan Protest

Related Posts

Imam Jailed Over Alleged Sexual Assault of Teen

فرانس میں مسجد کے امام کو 15 سالہ لڑکے پر جنسی حملے کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا

September 10, 2026
Apple Unveils First Foldable iPhone Duo Starting at $2,000

ایپل کا پہلا فولڈ ایبل آئی فون ڈو: 2,000 ڈالر کی قیمت، 23 اکتوبر سے دستیابی

September 10, 2026
Macron Taps Thomas Pesquet to Command 2027 ISS Mission

تھامس پیسکیٹ 2027 میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن مشن کی قیادت کریں گے، میکرون کا اعلان

September 10, 2026
Fuel Poverty Grips France as Millions Skip Meals and Heating

فرانس میں توانائی کی غربت: 62 فیصد شہری مفلسی کے خطرے سے دوچار

September 10, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.