فرانس کے علاقے کوریز میں خزاں کے آغاز کے ساتھ ہی اخروٹ کی کاشت کاروں کی مصروفیات عروج پر پہنچ جاتی ہیں۔ موسم گرما کی شدید گرمی اور خشک سالی کے باوجود، یہ کاشت کار روایتی طریقوں سے اخروٹ کی فصل کاٹنے اور اس سے تیل نکالنے کے عمل میں مصروف ہیں۔ یہ پیشہ نہ صرف ایک معاشی سرگرمی ہے بلکہ نسلوں سے چلا آنے والا ایک قیمتی فن بھی ہے۔
موسمی چیلنجز اور فصل کی کٹائی
اکتوبر کا مہینہ شروع ہوتے ہی اخروٹ کی کاشت کاروں کے لیے کام کا آغاز ہو جاتا ہے۔ جدید مشینری کے استعمال نے اس عمل کو تیز تر کر دیا ہے، تاہم درختوں کو نقصان پہنچائے بغیر احتیاط برتنا ضروری ہے۔ امسال موسم گرما کی شدید گرمی اور پانی کی کمی نے باغات کو کافی متاثر کیا ہے۔ کئی کاشت کاروں کے مطابق، جنوب کی طرف جھکے ہوئے اخروٹ دھوپ کی شدت سے جھلس گئے ہیں، جس سے پیداوار کے معیار پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
روایتی تیل کی تیاری کا فن
کوریز کے علاقے میں اخروٹ سے تیل نکالنے کا روایتی طریقہ صدیوں پرانا ہے۔ کاشت کار اخروٹ کے گودے کو تقریباً 100 ڈگری سینٹی گریڈ پر پکاتے ہیں اور پھر پرانی مشینوں کی مدد سے اسے دباتے ہیں۔ اس عمل میں 30 کلوگرام اخروٹ سے تقریباً 15 لیٹر تیل حاصل ہوتا ہے۔ تیل کی تیاری میں درجہ حرارت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ کم درجہ حرارت پر نرم اور ہلکا تیل حاصل ہوتا ہے، جبکہ زیادہ درجہ حرارت پر بھنا ہوا اور گہرا ذائقہ پیدا ہوتا ہے۔
خاندانی کاروبار کی نئی نسل
کئی خاندان صدیوں سے اس پیشے سے وابستہ ہیں۔ مثال کے طور پر، جوبرٹی خاندان نے تین نسلوں سے اخروٹ کی کاشت اور تیل کی تیاری کو اپنایا ہوا ہے۔ نوجوان نسل نے جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی مصنوعات میں تنوع پیدا کیا ہے۔ اب اخروٹ سے آٹا، پھیلانے والا پیسٹ اور نمکین چیزیں بھی تیار کی جاتی ہیں، جو اعلیٰ درجے کی دکانوں اور ریستورانوں میں فروخت کی جاتی ہیں۔
مقامی ریستورانوں میں اخروٹ کا استعمال
کوریز کے نوجوان شیف تھیبو پراڈل نے اخروٹ کو اپنے مینو کا مرکزی موضوع بنایا ہے۔ ان کی تیار کردہ خصوصی ڈش میں چاکلیٹ اور اخروٹ کی آئس کریم شامل ہے، جو ان کے بچپن کی یادوں سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق، کھانے کے اختتام پر میز پر اخروٹ کی موجودگی اور دیر تک چلنے والی گفتگو ان کے خاندانی لمحات کی عکاسی کرتی ہے۔
اگرچہ اخروٹ کی کاشت اور اس سے تیل نکالنا محنت طلب اور چیلنجز سے بھرا کام ہے، لیکن کوریز کے کاشت کاروں نے اسے اپنی پہچان بنا لیا ہے۔ یہ نہ صرف ایک معاشی ذریعہ ہے بلکہ ایک ثقافتی ورثہ بھی ہے جو نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔
