geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    صحت و تندرستی
    • Pakistan Cracks Down on Unsafe Syringes Amid HIV Surgeایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز: ڈریپ کا غیر محفوظ سرنجوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا حکم
    • France Launches Spring COVID-19 Booster Campaign for Most Vulnerableفرانس میں موسم بہار کے لیے نئی کورونا ویکسینیشن مہم کا آغاز، بوڑھوں اور کمزور افراد کو ترجیح
    • Pakistan's HIV Crisis: Unsafe Injections Fuel 500% Death Surgeانجیکشن کلچر اور ناقص نفاذ نے پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو ہوا دی
    دلچسپ اور عجیب
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • Train Travel's Hidden Benefit: Stress Relief Through Sceneryٹرین کے سفر میں مناظر کو دیکھنا ذہنی صحت کے لیے مفید، نئی تحقیق میں انکشاف
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Elon Musk Summoned by French Justice in X Investigationایلون مسک: فرانسیسی عدالت کے سامنے پیشی کا نوٹس اور ایکس کے خلاف تحقیقات
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • EU's Age Verification App "Technically Ready" to Block Minorsیورپی یونین کا عمر کی تصدیق کرنے والا ایپ تیار، پندرہ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا سے روکنے کی تیاری
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

کوڑے کا پھول

November 6, 2021 0 1 min read
Mother
Share this:

Mother

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پچیس سالہ جوان جمال ایک سال بعد پھر میرے پاس آیا ہوا تھا میں معمول کی طرح دفتر گیا تو بہت سارے ملاقاتیوں میں اُس کا چہرہ بھی نظر آیا تو میں چونک سا گیا کیونکہ ایک سال پہلے وہ مسلسل پندرہ سولہ دن میرے پاس آکر ایک ہی سوال کرتا جب میں تسلی بخش جوا ب نہ دیتا تو وہ واپس چلا جاتا شروع میں تو بہت مہذب شائستہ لہجے میں گفتگو اور سوال کرتا لیکن چند دن بعد ہی اِس کے لہجے کی نرمی شائستگی کر ختگی میں بدلتی گئی بلکہ بحث و مباحثے میں شامل ہو گئی یہ ہر حال میں اپنے سوال کا جواب جاننا چاہتا تھا میں جب کہتا کہ تمہارے سوال کا جواب میرے پاس نہیں تو یہ بحث کو طول دیتا اور کہتا کوئی اندازہ ہی لگالیں جب میں یہاں بھی انکار کرتا تو ضد کرتا آپ کی روحانیت فقیری کا مجھے تو کوئی فائدہ نہ ہوا میرے دکھ کرب کا مداوا تو کسی کے پاس بھی نہیں ہے میں اپنے روگ کے لیے بے شمار نجومیوں پامسٹوں پراسرار علوم کے ماہرین کے پاس جا کر بہت سارا پیسہ برباد کرنے کے بعد بھی اپنے سوال کا جواب نہیں جان پایا اِسی تلاش بھاگ دوڑ میں کسی نے آپ کا بتایا تو آپ کے پاس آگیا لیکن آپ نے بھی باقی لوگوں کی طرح مجھے مایوس ہی کیا ہے۔

اِس سوال و جواب میں جمال نے مجھے بہت سارے لالچ بھی دئیے کہ میں آپ کو منہ مانگے پیسے دوں گا خدا کے لیے میرے سوال کا جواب ضرور دے دیں جو سوال یہ لے کر میرے پاس آیا تھا وہ بچھو بن کر اِس کی رگوں کو کاٹ رہا تھا شدت کرب سے یہ دن کا چین رات کا آرام کھو چکا تھا اذیت کی انتہا سے بے خوابی کا شکار ہوا کھانا پینا چھوڑ دیا اپنا خیال رکھنا چھوڑ دیا تو بے خوابی اور خوراک کی کمی سے صحت تیزی سے گرنا شروع ہوئی توانائی کی جگہ کمزوری نقاہت نے جسم کو جکڑنا شروع کر دیا تھا لیکن یہ ضدی اور نفسیاتی نیم پاگل سا ہو کر دردر کی ٹھوکریں کھاتا پھر رہا تھا یہ اکیلا تھا اِس کا کوئی بہن بھائی بھی نہیں تھا والد کا نام و نشان نہیں تھا دکھ کرب ناسور بنتا جا رہا تھا نفسیاتی الجھن کا نٹے کی طرح اِس کو چبھ رہی تھی میں با ر بار جب خدا کی نعمتوں شکر و صبر پر لیکچر جھاڑتا تو اِس پر بلکل بھی اثر نہ ہو تا بلکہ دوران گفتگودنیا کے ساتھ ساتھ خدا سے بھی ناراضگی کا اظہار کر نے لگتا کہ خدا نے بھی تو میرے ساتھ بہت بڑی ناانصافی اور ظلم کیا ہے میں تو خدا کی رحمت اور فضل سے محروم ہی رہا ہوں وہ بہت ساری باتیں اِسی کرتا کہ میںیہاں لکھ بھی نہیں سکتا فطری طور پر ذہین شریف انسان تھا مجھے اِس سے ہمدردی لگا ئو سا ہو گیا تھا۔

اِس نے جب بار بار تلخ گفتگو کی تو پھر بھی جب آتا میں خندہ پیشانی پیار سے ملتا یہ اپنا سوال دہراتا میں اچھائی اور نصیحتوں کے لیکچر کا آغاز کر دیتا لیکن کوئی لفظ فقرہ اِس کی تسلی نہ کرتا پھر یہ میرے پاس آنا بند ہو گیا پھر ایک دن میرے پاس آیا اور بولا پروفیسر صاحب آپ کے پاس میرے دکھ کا علاج اور سوال کا جواب آگیا ہے میرے انکار کرنے پر بولا میں نے اِس کا حل نکال لیا ہے سنا ہے علم نجوم پراسرار علوم میں ہندو قوم بہت آگے نکل گئی ہے اب میں نے انٹرنیٹ پر ہندوستانی جو تشیوں سے رابطہ کیا ہے ایک نجومی مجھے بہت پسند آیا ہے میں بھارت تو اُس کے پاس نہیں جا سکتا لیکن وہ ہر ما ہ دو بئی میںا تا ہے اب میں اُس کے پاس دوبئی جا رہا ہوں اُس نے کچھ پیسے لے کر میرے سوال کا جواب دینے کا وعدہ کیا اب میں دوبئی اپنے سوال کا جواب لینے جا رہا ہوں پاکستان کا کوئی بابا بزرگ نجومی درویش تو میرے سوال کا جواب دے نہیں پایا اب مجھے دشمن ملک کے بندوں کے پاس جانا پڑ رہا ہے میںواپس آکر آپ سے ملوں گا اور بتائوں گا کہ میرے سوال کا جواب کیا ہے پھر یہ چلا گیا ایک سال سے زیادہ عرصہ گز ر گیا اِس عرصے میں کئی بار مجھے اِس کی یاد بھی آئی کہ دوبئی میں جا کر کس سے ملا سوال کا جواب ملا کہ نہیں واپس آیا کہ نہیں کہیں نہ کہیں مجھے بھی اِس کے سوال کے جواب کا انتظار تھا۔

آج دیکھا تو یہ خوشگوار صحت مند موڈ میں تھا اِس کی قابل رشک صحت اور خوشی سے مجھے اچھا لگا میں نے اشارہ کیا تو میرے پاس آکر بغل گیر ہو گیا شرمندہ لہجے میں بولاسر میں آپ سے معافی مانگنے آیا ہوں میں بہت بڑی غلط فہمی کا شکار تھا اور مجھے میرے سوال کا جواب بھی مل گیا ہے آپ لوگوں سے مل لیں پھر بات کرتے ہیں کیونکہ مجھے جواب کا انتظار تھا اِس لیے جلدی لوگوں سے مل کر جمال کو بلا لیا بینچ پر بیٹھ کر پو چھا بتائو یار مجھے بہت خوشی ہے کہ تمہیں تمہارے سوال کا جواب مل گیا ہے تو بولا سر آپ تو جانتے ہیں میر ا سوال یہ تھا کہ میرے والدین کون ہیں جس ماں نے مجھے پالا ہے وہ اقرار کر چکی ہے کہ تم میرے بیٹے نہیں ہو لیکن جب میں اُن سے پوچھتا تھا کہ میرے والدین کون ہیں تو انکار کر دیتی تھیں کہ مجھے نہیں پتہ اِس حقیقت کا پتہ مجھے اُس وقت چلا جب والدہ کے پیٹ کا آپریشن ہوا تو ڈاکٹر نے کہا یہ تمہاری کیا لگتی ہیں تو میں نے کہاں ماں تو اُن کے منہ سے نکل گیا یہ تو ماں بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی تمہاری ماں کوئی اور ہے پھر میں نے اپنا اور والدہ کا ٹیسٹ کرایا تو حقیقت سامنے آگئی کہ یہ میری والدہ نہیں میں ماں سے ناراض ہو گیا پھر آپ جیسے لوگوں کے پاس دھکے کھاتا رہا پھر ناراض ہو کر دوبئی نجومی کے پاس چلا گیا اُس نے بھی پیسے لوٹ لیے کچھ نہ بتایا میں ناراض ہو کر گیا تھا اِس لیے نوکری کر لی اور والدہ سے تعلق توڑ لیا۔

چند دن پہلے مجھے کسی بوڑھی عورت کا دوبئی فون آیا کہ تم فرشتہ صفت ماں کو چھوڑ گئے ہو پاکستان آئو میں تم کو بتاتی ہوں تمہاری والدہ کون ہے میں فوری پاکستان آیا اور سرگودھا کے پا س گائوں میںاُس عورت کے ایڈریس پر پہنچ گیا بوڑھی عورت خوشدلی سے ملی اور بولی تم جانتے ہو تمہاری ماں سکول ٹیچر تھی تمہاری پیدائش کے وقت یہاں نوکری کرتی تھی میں یہ راز تم کو کبھی نہ بتاتی لیکن جب تم اُس بیچاری کو چھوڑ گئے تو دکھ ہوا تمہاری ماں اور میںایک ہی سکول میں پڑھاتی تھیں ایک دن صبح سکول کے گرائونڈ میں کوڑے کے ڈھیر پر تم ملے تمہاری ماں تم کو دنیا میں لاکر تمہیں کوڑے کے ڈھیر پر چھوڑ گئی تھی تمہاری ماں کی جوانی میں شادی ہوئی جب ڈاکٹروں نے بتایا کہ تمہاری ماں بانجھ ہے اولاد پیدا نہیں کر سکتی تو خاوند نے طلاق دے دی میرے کہنے پر اِس نے تم کو اپنا لیا کیونکہ گائوں میں لوگوں کو پتہ تھا اِس لیے یہ تبادلہ کرا کر لاہور آگئی پھر تمہاری عزت کے لیے دوبارہ زندگی میں کبھی واپس نہ گئی اب وہ تم کو کیسے بتاتی تمہاری ماں تو کوڑے کا ڈھیر تھا جہاں سے تم کو اٹھایا تھا لیکن اِس بیچاری نے اپنی زندگی کمائی ہر سانس تمہارے نام لگا دی پڑھا کر جوان کیا تم نے یہ صلہ دیا جب وہ تمہارے والدین کو جانتی ہی نہیں تو کیسے تمہارے سوال کا جواب دے وہ بہت روئی میں بھی عرق ندامت میں ڈوب گیا واپس ماں کے قدم چوم کر معافی مانگی آج آپ کے پاس آگیا سر میری ماں بیمار ہے اُن کی شفا کے لیے آیا ہوں تو میں بولا میں تمہاری ماں کا دیدار کر نا چاہتا ہوں پھر میں جمال کے ساتھ گھر گیا جمال نے جاتے ہی گرم پانی ٹب میں ڈال کر ماں کے پائوں دھونے شروع کر دئیے پائوں دھوتے بول رہا تھا ماں میں کوڑے کا ڈھیر تھا تو ماں بولی تم کوڑا نہیں کوڑے کے پھول تھے جس نے میری زندگی مہکا دی میں بھی اٹھ کر ماں کے پائوں دھونے لگا ٹب کے پانی کو آب زم زم سمجھ کر آنکھوں سے لگا یا اور کہاماں جی آپ واقعی خدا کا نور ہیں آپ کے قدموں تلے جنت ہے۔
Prof Muhammad Abdullah Khan Bhatti

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل: help@noorekhuda.org
فون: 03004352956
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org
فیس بک آفیشل پیج: www.fb.com/noorekhuda.org

Share this:
PIA
Previous Post طیاروں میں آئی پیڈز لگانے کے نام پر 3 ارب کی کرپشن، پی آئی اے افسر گرفتار
Next Post جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری
Woman

Related Posts

US and Israel Strike Iran as Hezbollah Conflict Intensifies

امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ، حزب اللہ کے ایک ہزار ٹھکانے تباہ

April 28, 2026
Trump Rejects Iran’s Staged Peace Plan for War

ٹرمپ کا ایران کی جنگ ختم کرنے کی تازہ تجویز سے اظہار ناراضگی

April 28, 2026
Imran Khan Gets Fourth Eye Injection at Pims Hospital

عمران خان کو پمز میں چوتھی آنکھ کا انجکشن لگا دیا گیا

April 28, 2026
Pakistan Strikes Afghan Taliban Posts as Civilian Toll Rises

آپریشن غضب للحق: پاکستان نے چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی چوکیاں تباہ کر دیں

April 28, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.