پیرس: یورپی یونین کے اہم ممالک نے ڈنمارک کی فوجی مدد کے لیے گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جزیرے پر قبضے کی دھمکیوں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
فرانس، جرمنی اور سویڈن کی مشترکہ کارروائی
فرانسیسی فوج کے ذرائع کے مطابق فرانس بھی جرمنی اور سویڈن کی طرح گرین لینڈ میں فوجی مشن میں حصہ لے گا۔ اس مشن کا مقصد ڈنمارک کی علاقائی سالمیت کو امریکی جارحیت کے ممکنہ خطرے سے بچانا ہے۔
ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارس لوکے راسموسن نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد انکشاف کیا کہ “صدر ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کے خواہش مند ہیں۔” اس ملاقات میں گرین لینڈ کی نمائندہ ویویان موٹزفیلڈٹ، امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس بھی موجود تھے۔
جرمنی کی پہل اور یورپی یکجہتی
جرمن وزارت دفاع نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 13 ارکان پر مشتمل ایک جرمن فوجی دستہ جمعرات کو گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں تعینات کیا جائے گا۔ اس مشن کا مقصد “بحری نگرانی کی صلاحیتوں سمیت خطے میں سلامتی کے تحفظ کے لیے ڈنمارک کی ممکنہ فوجی مدد کے فریم ورک کا جائزہ لینا” ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے واضح کیا کہ “یہ ضروری ہے کہ گرین لینڈ کے باشندے اعمال کے ذریعے جان لیں کہ ہم ان کی خواہشات اور مفادات کا احترام کرتے ہیں۔ گرین لینڈ اس کے باشندوں کا ہے۔”
ٹرمپ کی دھمکیاں اور امریکی موقف
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر لکھا کہ “قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔ یہ گولڈن ڈوم منصوبے کے لیے انتہائی اہم ہے۔” گولڈن ڈوم امریکا کا ایک بڑے پیمانے کا میزائل شیلڈ منصوبہ ہے۔
سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹر سون نے اعلان کیا کہ سویڈش فوجی دستے بھی ڈنمارک کی درخواست پر گرین لینڈ بھیجے جائیں گے تاکہ “آپریشن آرکٹک اینڈیورنس” مشق کی تیاری کی جا سکے۔ ناروے نے بھی اپنی فوجی کمک بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
بین الاقوامی ردعمل اور مستقبل کے امکانات
ڈنمارکی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ “امریکا کے ساتھ قریبی تعاون” کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ “باہمی احترام پر مبنی” ہونا چاہیے۔ تاہم یورپی ممالک نے صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے فوجی تیاریوں کا فیصلہ کیا ہے۔
یورپی یونین کی اس مشترکہ فوجی کارروائی کو خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے جبکہ بین الاقوامی مبصرین اسے آرکٹک خطے میں طاقت کے نئے توازن کے آغاز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
