پیرس: فرانس میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے سرگرم کارکن اور درختوں کی نگرانی کے قومی گروپ (جی این ایس اے) کے بانی تھامس بریل نے تولوز اور کاستر کے درمیان تعمیر ہونے والی A69 ہائی وے کے قومی بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ یہ ہائی وے نومبر کے آغاز سے باقاعدہ طور پر کھول دی جائے گی۔
احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری
ہفتے کے روز تارن کے علاقے میں سیمالینس کے مقام پر اس ہائی وے کے مخالفین کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق اس احتجاج میں ایک ہزار سے پندرہ سو افراد کی شرکت متوقع تھی جبکہ سیکورٹی کے لیے تقریباً آٹھ سو اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ مظاہرین نے اس منصوبے کے خلاف اپنی مخالفت کا ایک بار پھر اعلان کیا۔
بائیکاٹ کی اپیل کی وجوہات
تھامس بریل نے کہا کہ وہ گاڑی چلانے والوں اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ہائی وے کا بائیکاٹ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ٹرک کے لیے تولوز اور کاستر کے درمیان آنے جانے کا خرچ ساٹھ یورو جبکہ ایک عام شہری کے لیے یہ خرچ بیس یورو ہوگا۔ ان کے بقول اتنے زیادہ نرخوں کی وجہ سے یہ بائیکاٹ قدرتی طور پر ہوگا۔
ٹول ٹیکس کا نیا نظام
اس ہائی وے پر ٹول ٹیکس وصولی کا نظام بھی روایتی طرز سے مختلف ہوگا۔ یہاں ٹول پلازے کی بجائے کیمرے نصب کیے گئے ہیں جو گاڑیوں کی شناخت کرتے ہیں اور بعد میں خودکار طریقے سے سفر کی رقم کا حساب لگایا جاتا ہے۔ گاڑی چلانے والے اس رقم کو آپریٹر کی ویب سائٹ یا مخصوص دکانوں سے ادا کر سکتے ہیں۔ تھامس بریل کے مطابق اگر ادائیگی کرنا بھول جائیں تو جرمانہ عائد ہوتا ہے جو مزید کمائی کا ذریعہ بنتا ہے۔
ماحولیاتی تحفظات
یاد رہے کہ A69 ہائی وے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے مقامی حیاتیاتی تنوع اور درختوں کو نقصان پہنچے گا۔ ہائی وے کی افتتاحی تقریب سے چند روز قبل بھی مخالفین نے درختوں پر چڑھ کر احتجاج کیا تھا۔ اس منصوبے کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ ہائی وے علاقائی ترقی اور سفری سہولت کے لیے ضروری ہے۔
