پیرس: فرانس کے وزیراعظم فرانسوا بیرو کو متنازعہ بجٹ منصوبہ بندی کے باعث سیاسی بحران کا سامنا ہے، جہاں ان کا حکومت چھوڑنے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ 8 ستمبر کو ہونے والی اسمبلی ووٹنگ میں ان کی حکومت کا مستقبل زیر غور آئے گا۔
تفصیلات کے مطابق فرانسوا بیرو کے بجٹ منصوبے کو شدید عوامی اور سیاسی مخالفین سے ردعمل کا سامنا ہے۔ اس بجٹ میں 2026 کے لیے 43.8 ارب یورو کی بچت کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا، جس کے تحت دو عام تعطیلات کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
اگر پارلیمنٹ وزیراعظم کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار نہیں کرتی تو فرانسوا بیرو کو مستعفی ہونا پڑسکتا ہے۔ اس صورت میں صدر ایمانوئل میکرون کے پاس دو مواقع ہوں گے: اسمبلی کو تحلیل کرکے نئے انتخابات کروانا یا ایک نیا وزیر اعظم مقرر کرنا۔
نئے وزیراعظم کی تقرری کی صورت میں، حکومت کو نیا بجٹ تیار کرنے کا موقع ملے گا جو اکتوبر میں پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور دسمبر تک اس کی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔ ناکامی کی صورت میں ملک کو ‘shutdown’ جیسی صورتحال کا سامنا ہوسکتا ہے، جو امریکہ میں دیکھی جاتی ہے۔
یہ سیاسی بحران فرانس کے مؤثر حکومتی عمل پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے اور ممکنہ طور پر ملک کی معیشت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ فرانسیسی عوام اور سیاسی جماعتیں آنے والے دنوں میں اس اہم صورتحال پر بڑی گہری نظر رکھیں گی۔
