پیرس: کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کا نام کسی طوفان کو دیا جائے؟ فرانس کے محکمہ موسمیات نے جمعہ 28 اگست کو 2026-2027 کے سیزن کے لیے طوفانوں کے ناموں کی باضابطہ فہرست جاری کر دی ہے۔ اس بار یہ نام عوام کی شرکت سے منتخب کیے گئے ہیں، جس میں 40 ہزار سے زائد افراد نے اپنی تجاویز پیش کیں۔
موسمیاتی ایجنسی میٹیو فرانس کے مطابق اس مشاورت سے 21 نام سامنے آئے ہیں، جن میں مرد اور خواتین دونوں کے نام شامل ہیں۔ فہرست میں ایڈم، برونا، چارلس، ڈیان، ایرک، فلورا، گیبریل، ہیلوئز، ایگور، جولیا، کیون، لولا، مشیل، نتھالی، آسکر، پاؤلا، رافیل، سینڈرا، تھامس، ویرا اور والٹر شامل ہیں۔
عوام کی شرکت غیر معمولی کیوں ہے؟
میٹیو فرانس نے وضاحت کی کہ طوفانوں کو نام دینے کا مقصد خطرناک موسمی حالات کے دوران عوام تک مؤثر طریقے سے پیغام پہنچانا ہے۔ ایجنسی نے کہا کہ “آپ نے 40 ہزار سے زائد نام تجویز کیے، جس کے لیے ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔”
تاہم یہ کوئی معمول کی بات نہیں کہ فرانسیسی عوام خود طوفانوں کے نام منتخب کریں۔ 1954 سے برلن کی فری یونیورسٹی بحر اوقیانوس اور یورپ میں آنے والے تمام طوفانوں اور ہوائی دباؤ کے نظاموں کے نام رکھتی تھی۔ 2017 میں میٹیو فرانس، اسپین کی اے ای ایم ای ٹی، پرتگال کی آئی پی ایم اے، بیلجیئم کی آئی آر ایم اور لکسمبرگ کی میٹیو لکس نے مل کر اپنا نام دینے کا نظام متعارف کرایا۔
طوفان کا نام کب رکھا جاتا ہے؟
جنوب مغربی گروپ میں شامل چھ ممالک — فرانس، اسپین، پرتگال، بیلجیئم، لکسمبرگ اور اندورا — باری باری ناموں کی فہرست تجویز کرتے ہیں۔ 2026-2027 کے سیزن کے لیے فرانس کی باری تھی، اور میٹیو فرانس نے عوام کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔
یہ نام یکم ستمبر سے استعمال کیے جا سکیں گے، جب اگلے طوفانی سیزن کا آغاز ہوگا۔ میٹیو فرانس کے مطابق کسی طوفان کو صرف اسی صورت میں نام دیا جاتا ہے جب اس سے چھ ممالک میں سے کسی ایک میں کم از کم اورنج لیول کی ہوا کی وارننگ جاری کرنے کا خطرہ ہو۔
جو ملک سب سے پہلے اورنج یا ریڈ الرٹ جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، وہی پہلے سے طے شدہ فہرست میں سے اس طوفان کے لیے نام منتخب کرتا ہے اور دوسرے ممالک کو مطلع کرتا ہے۔
مغربی یورپ کے طوفانوں کے لیے مختلف اصول
البتہ اگر کوئی طوفان پہلے آئرلینڈ، برطانیہ یا نیدرلینڈز کو متاثر کرے — جنہیں مغربی گروپ کہا جاتا ہے — تو وہ ممالک اپنی الگ فہرست استعمال کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں میٹیو فرانس بھی انہی کے منتخب کردہ نام کو اپناتا ہے، اور اس کے برعکس بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔
یہ اقدام موسمی انتباہات کو زیادہ مؤثر بنانے اور عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، تاکہ شدید ہواؤں اور طوفانوں کے دوران بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکیں۔
