پیرس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ فرانسیسی دارالحکومت میں شریعت ’تقریباً ایک دوسرے طرزِ زندگی‘ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے، پیرس کے میئر ایمانوئل گریگوار نے جمعرات 27 اگست کو سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ اپنے پیغام میں گریگوار نے کہا کہ پیرس کو کسی ایسے سربراہِ مملکت سے سبق لینے کی ضرورت نہیں جو اپنے ملک کو چلانے والے تارکینِ وطن کا پیچھا کرنے کے لیے نسل پرست ملیشیا تعینات کرتا ہے۔
ٹرمپ کے متنازع بیان پر فرانسیسی ردعمل
میئر پیرس کا یہ تبصرہ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای کی جانب اشارہ تھا، جسے ناقدین غیر متناسب طاقت کے استعمال اور نسلی پروفائلنگ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ گریگوار نے مزید لکھا کہ پیرس، لندن اور نیویارک عالمی شہر ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیں۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے قدامت پسند پوڈ کاسٹ ’دی گلین بیک پروگرام‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکا میں شریعت کی موجودگی پر بات کی اور پھر یورپ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لندن یا پیرس جائیں تو وہاں شریعت تقریباً دوسرے طرزِ زندگی کی مانند ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو مضحکہ خیز قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ امریکا کا قانونی نظام اس معاملے میں سب سے بہتر ہے۔
لندن کے میئر بھی ٹرمپ کے نشانے پر رہ چکے ہیں
یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے یورپی شہروں کے بارے میں ایسا متنازع بیان دیا ہو۔ ستمبر 2025 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران انہوں نے لندن کے میئر صادق خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔
اس وقت صادق خان نے جواب دیا تھا کہ ٹرمپ نے خود کو نسل پرست، صنف پرست اور اسلام مخالف ثابت کیا ہے۔ برطانیہ کے سابق وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی ٹرمپ کے شریعت سے متعلق تبصروں کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔
تاہم تازہ بیان کے بعد لندن کے میئر کی جانب سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
- ٹرمپ نے شریعت کو امریکا میں مکمل طور پر ممنوع قرار دینے کا عزم ظاہر کیا
- پیرس کے میئر نے آئی سی ای کو نسل پرست ملیشیا قرار دیا
- صادق خان 2016 میں کسی مغربی دارالحکومت کے پہلے مسلمان میئر بنے تھے
