فرانس میں صدارتی انتخابات کے قریب آتے ہوئے سیاسی جماعتوں نے نوجوانوں کو ووٹ کا حق دینے کی بحث کو تیز کر دیا ہے۔ مختلف جماعتوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ 16 سال کی عمر کے نوجوانوں کو تمام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے۔
JEAN-LUC MÉLENCHON کا مطالبہ
فرانس کے معروف سیاستدان Jean-Luc Mélenchon نے Clermont-Ferrand میں ایک تقریر کے دوران واضح طور پر کہا کہ 16 سال کی عمر کے نوجوانوں کو ووٹ ڈالنے کا حق ملنا چاہیے۔ انہوں نے دلیل دی کہ اس عمر میں نوجوان قانونی طور پر آزاد ہو سکتے ہیں، والدین کی ذمہ داریاں ادا کر سکتے ہیں اور جیل بھی جا سکتے ہیں، تو پھر انہیں ووٹ ڈالنے کا حق کیوں نہیں دیا جاتا۔
دیگر جماعتوں کی حمایت
یہ تجویز صرف Jean-Luc Mélenchon تک محدود نہیں ہے۔ صدارتی امیدوار Marine Tondelier نے بھی اس کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف طلبہ تنظیموں اور اساتذہ نے بھی اس تجویز کو مثبت قرار دیا ہے۔
یورپ میں صورتحال
- آسٹریا: 2007 سے 16 سال کی عمر میں ووٹ کا حق، ساتھ میں 13 سال سے شہری تعلیم کے کورسز
- مالٹا: 16 سال کی عمر میں ووٹ کا حق
- آسٹریا میں 16 سے 18 سال کے نوجوانوں کی شرکت 18 سے 20 سال کے نوجوانوں کے برابر ہے
نوجوانوں کی رائے
پیرس میں منعقدہ ایک مظاہرے کے دوران نوجوانوں، طلبہ اور اساتذہ نے اس تجویز کو دلچسپ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے نوجوانوں کو عوامی مباحثوں میں زیادہ وزن ملے گا اور ان کی آواز بھی سنی جائے گی۔
مستقبل کی راہ
فرانس میں صدارتی انتخابات کے قریب آتے ہوئے یہ بحث مزید اہمیت اختیار کر رہی ہے۔ سیاسی جماعتیں نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے اس مسئلے کو اہمیت دے رہی ہیں۔ تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا فرانس میں 16 سال کی عمر میں ووٹ کا حق دینے کی تجویز کو قانونی شکل مل پائے گی یا نہیں۔
