لومے: فرانسیسی دستاویزی فلم ساز گیل موکائر اور سیباسٹین پیریز پیزانی، جنہیں ٹوگو میں جولائی کے آخر میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ فرانس 5 کے پروگرام ’لیس روٹس ڈی لیمپوسیبل‘ کی ایک قسط فلم کر رہے تھے، عارضی رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ان کے ٹوگولیس ساتھی فریڈ ویدومے کو بھی اسی شرائط پر رہا کر دیا گیا ہے۔
ان کی گرفتاری نے صحافتی حلقوں اور اس سے باہر شدید تشویش پیدا کر دی تھی۔ بدھ کی صبح ان کے وکیل نے اس رہائی کی تصدیق کی، جس کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ دونوں فرانسیسی شہری بدھ کی شام تک فرانس واپس روانہ ہو سکتے ہیں۔
ٹوگو کی عدالت سے عارضی رہائی کی منظوری
گیل موکائر اور فریڈ ویدومے کی رہائی کی خبر سب سے پہلے منگل کی رات ٹوگو کے متعدد ذرائع ابلاغ نے نشر کی، جس کے بعد بدھ کی صبح ان کے وکیل نے اس کی تصدیق کی۔ وکیل نے آر ایف آئی سے گفتگو میں کہا کہ اب سچائی کی تلاش کے لیے انہیں حراست میں رکھنا ضروری نہیں رہا، تاہم انہوں نے رہائی کی شرائط یا کسی ممکنہ پابندی کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے معاملے میں اہم موڑ ہے جس نے سفارتی سطح تک اہمیت اختیار کر لی تھی۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے متعدد بار اپنے شہریوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ دریں اثنا، رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے پیرس میں ٹوگو کے سفارت خانے کے سامنے مظاہرے اور پٹیشن مہم چلا رکھی تھی۔
ڈرون فلم بندی تنازعہ کی جڑ
اس مقدمے کا مرکزی نکتہ شوٹنگ کے دوران ڈرون کا استعمال تھا۔ ٹوگو کی عدالت نے تینوں افراد پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ملک کے شمالی علاقے میں فلم بندی کی، جہاں بار بار جہادی حملوں کی وجہ سے سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔
ٹوگو کی وزارت انصاف اور سیکیورٹی کے مطابق، تینوں افراد ٹورازم کی وزارت سے جاری کردہ اجازت نامہ پیش کر رہے تھے، لیکن یہ اجازت نامہ صرف فریڈ ویدومے کے نام پر تھا اور مخصوص علاقوں تک محدود تھا، جس میں ساوانیس کا علاقہ شامل نہیں تھا جہاں کچھ مناظر فلمائے گئے۔
تینوں صحافیوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کی پروڈکشن کمپنی نے واضح کیا کہ رپورٹنگ کے دوران تمام ضروری اجازت نامے حاصل تھے اور دستاویزی کام میں کوئی حساس نوعیت نہیں تھی۔ دفاعی فریق نے حراست کو غیر متناسب قرار دیا اور کہا کہ محض انتظامی جانچ سے صورتحال واضح ہو سکتی تھی۔
مغربی افریقہ میں صحافتی آزادی کے لیے ایک علامت
اس معاملے نے مغربی افریقہ میں غیر ملکی اور مقامی صحافیوں کو درپیش بڑھتی ہوئی مشکلات کو نمایاں کیا ہے، جہاں سیکیورٹی کے غیر مستحکم علاقوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹوگو، جو مغربی افریقہ کا ایک چھوٹا ساحلی ملک ہے، آر ایس ایف کی سالانہ پریس فریڈم انڈیکس میں 180 ممالک میں سے 97ویں نمبر پر ہے۔
آر ایس ایف نے رہائی کو ایک راحت قرار دیا لیکن چوکسی برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے کہا: ’’ہم ان کی فرانس واپسی اور تمام الزامات کے مکمل خاتمے تک متحرک رہیں گے۔‘‘ جب تک تینوں افراد کی عدالتی حیثیت حتمی طور پر واضح نہیں ہو جاتی، صورت حال میں تبدیلی یا نئی انتظامی پابندیوں کا خدشہ برقرار ہے۔
گیل موکائر اور سیباسٹین پیریز پیزانی کی رہائی ایک ماہ سے زائد عرصے پر محیط آزمائش کا ممکنہ اختتام ہے۔ تاہم، ٹوگو میں ’جعلی بیانات‘ کے الزام میں ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہ سکتی ہے، جسے تینوں افراد سختی سے مسترد کرتے ہیں۔
