geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
July 25, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Why You Must Shower After Swimming, Per Dermatologistsسمندر یا پول میں تیراکی کے بعد نہانا محض صفائی نہیں، طبی ماہرین نے لازمی قرار دے دیا
    • US and Iran Halt Fire Again in Ormuz Strait Standoffآبنائے ہرمز پر دشمنی کا نیا خاتمہ، بحری آمد و رفت بحال؛ قطر میں تکنیکی مذاکرات متوقع
    • Heatwave Survival Guide for Summer Travelersگرمی کی لہر میں سفر: ماہرین کی انتباہات اور چھٹیاں محفوظ بنانے کے 7 سنہری اصول
    صحت و تندرستی
    • Why You Must Shower After Swimming, Per Dermatologistsسمندر یا پول میں تیراکی کے بعد نہانا محض صفائی نہیں، طبی ماہرین نے لازمی قرار دے دیا
    • France Braces for New Heatwave with Temperatures Soaring to 42°Cفرانس میں نئی قیامت خیز گرمی کی لہر، درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان
    • WMO Warns Strong El Niño to Develop Rapidly by Fallال نینو ستمبر تک طاقتور صورت اختیار کر لے گا، عالمی ادارے کی شدید موسم کی وارننگ
    دلچسپ اور عجیب
    • فرانس میں تاریخی قدم: بچوں کے ویڈیو گیم ‘پاپینز’ کی قیمت سوشل سیکیورٹی سے ادا کرنے کی سفارش
    • Southern France on Red Alert as Wildfire Danger Peaksفرانس میں جنگلات کی آگ کا ریڈ الرٹ: چھ اضلاع انتہائی خطرے کی زد میں، تیز ہوائیں پریشانی کا باعث
    • Wikipedia Founder Rejects AI for Article Editingوکیپیڈیا کے شریک بانی کا اے آئی ایڈیٹنگ کو مسترد کرنے کا اعلان، ’ہیلوسینیشنز‘ کو سنگین مسئلہ قرار دے دیا
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Meta Smart Glasses: The Hidden Privacy Threat in Plain Sightمیٹا اسمارٹ گلاسز: فیشن ایبل چشمہ یا پوشیدہ نگرانی کا جدید ہتھیار؟
    • Google Launches AI Search Summaries in Franceگوگل نے فرانس میں اے آئی سرچ کا نیا انجن لانچ کر دیا: اب لنک پر کلک کیے بغیر ہی ملے گا جواب
    • France Bans Social Media for Under 15s From Sept 1فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا قانون منظور: کیا یہ واقعی قابلِ عمل ہے؟
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

ٹڈی دل کے لشکر اور حکومتی اقدامات

February 18, 2020 0 1 min read
Tidi Dil
Share this:

Tidi Dil

تحریر : محمد مظہر رشید چودھری

گزشتہ دو ماہ سے ٹڈی دل نے پاکستان بھر میں کسانوں کے لئے خوف ودہشت پیدا کر رکھی ہے وطن عزیز پاکستان کے کئی علاقوں میں ٹڈی دل نے فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے حکومت پاکستان نے اس مسئلہ کو دیکھتے ہوئے ایمر جنسی ڈکلئیر کر رکھی ہے محکمہ زراعت دیگر اداروں کے ساتھ ملکر ٹڈی دل کے خاتمہ کے لئے کوشاں ہے ، ہم پہلے یہ جانتے ہیں کہ ٹڈی دل کی پیدائش کیسے ہوتی ہے اور اتنی بڑی تعداد میں جب یہ کسی علاقہ پر حملہ کرتی ہیں تو چند لمحوں میں فصلوں درختوں کے پتے چٹ کر جاتی ہیں ،مادہ ٹڈی دل انڈے دینے کے لئے سخت اور بنجر زمین کا انتخاب کرتی ہے زمین پر دم سے اپنے انڈے کے بقدر سوراخ کرتی ہے جس میں وہ انڈا دیتی ہے وہیں رکھے رکھے زمین کی گرمی سے بچہ پیدا ہوجاتا ہے ،ہر مادہ ٹڈی 5 سے 7 دن کے وقفے سے 1 سے 5 پوڈز دے سکتی ہے۔

ہر پوڈ میں 30 سے 50 تک انڈے ہوتے ہیں،ٹڈی دل کی پوری دنیا میں 20 سپیشیز پائے جاتے ہیں صرف 3 عدد ٹڈی دل مل کر چند ہفتوں میں لاکھوں کا جھنڈ بنا سکتے ہیں ایک بالغ ٹڈی 8 سے 10 ہفتے تک زندہ رہ سکتا ہے 2 ہفتوں کے اندر ہی انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں اگر موسم اور ہوا موافق ہو تو ٹڈی 3000 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہیں ایک جھنڈ میں کروڑوں کی تعداد میں ٹڈیاں ہو سکتی ہیں ٹڈی 2 کلومیٹر اونچائی تک اڑ سکتی ہیں یہ زمین اور سمندر دونوں راستوں سے گزر سکتی ہیں یہ اپنے سردار کے تابع ہوتی ہیں اگر ٹڈیوں کا سردار پرواز کرتا ہے تو یہ بھی اسی کے ساتھ پرواز کرتی ہیں جس کھیت میں پہنچ جاتی ہیں اس کو برباد کردیتی ہیں،ایک رپورٹ کے مطابق ٹڈیوں کی وجہ سے آنے والا بحران 19ـ2018 میں ہونے والی شدید بارشیں اور طوفان ہیں،صحرائی ٹڈیاں مغربی افریقہ سے لے کر انڈیا تک محیط تیس ممالک میں پھیلے خشک آب و ہوا والے خطے میں رہتی ہیں،اقوامِ متحدہ کے مطابق دو برس قبل جنوبی عربی جزیرہ نما کے علاقے میں نمی والے سازگار حالات کی وجہ سے ٹڈیوں کی تین نسلوں کی افزائش ہوئی اور کسی کو اس کا علم نہیں ہو سکا۔

بی بی سی کی جنوری 2020 کی رپورٹ کے مطابق صحرائی ٹڈیوں کے جھنڈ کے جھنڈ جنوبی ایشیا اور افریقہ میں حملہ آور ہو رہے ہیں جس سے انسانی خوراک اور اس سے جْڑی اشیا کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں یہ اس ربع صدی کا بدترین حملہ ہے ،یہ ایک وبا کی مانند غارت گری کرنے والے جھنڈوں کی طرح پرواز کرتے ہیں۔ ایسے جھنڈ بسا اوقات بہت بڑے ہوسکتے ہیں۔ کسی ایک دن ان میں دس ارب سے زیادہ ٹڈیاں شامل ہو سکتی ہیں اور یہ سینکڑوں کلومیٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہو سکتے ہیں۔ یہ ٹڈی دل روزانہ 120 کلومیٹر کا سفر کر سکتے ہیں اور دیہی زندگی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں جہاں یہ اپنی بھوک مٹانے کے لیے ہر شے کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے زراعت اور خوراک (ایف اے او) کے مطابق، ایک اوسط درجے کا جھنڈ ا فصلیں تباہ کر سکتا ہے جو ڈھائی ہزار افراد کے لیے سال بھر کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے تخمینوں کے مطابق، سنہ 2003 میں شروع ہونے والے ٹڈیوں کے حملے میں جو دو برس تک جاری رہا، صرف مغربی افریقہ میں ڈھائی ارب ڈالر مالیت کی فصلیں تباہ ہوئی تھیں۔ تاہم سنہ تیس، چالیس اور پھر سنہ پچاس کی دہائیوں میں بھی بہت بڑی تباہی والے ٹڈیوں کے حملوں کا سلسلہ جاری رہا تھا۔ ان میں ٹڈیوں کے کچھ جھنڈ تو کئی علاقوں میں پھیل گئے جس کی وجہ سے انھیں ایک وبا قرار دینے کی ضرورت سمجھی گئی۔

مجموعی طور پر ایف اے او کے مطابق، اس کرہ ارض پر ہر دس افراد میں سے ایک فرد کی زندگی ان ٹڈیوں سے متاثر ہوتی ہے۔ اس وجہ سے یہ دنیا میں منتقل ہونے والی بدترین وبا قرار دی جاتی ہے،سانچ کے قارئین کرام ! یہ تو تھی ایک رپورٹ جوکہ ٹڈی دل کے حوالہ سے سال نو کے آغاز میں ایک بین الااقوامی نشریاتی ادارے کی تھی ،ڈیڈیاں کھانے کے شوقین لوگ کہتے ہیں کہ جتنی طاقت سمندری جھینگوں میں ہوتی ہے اتنی ہی طاقت ٹڈیوں میں بھی ہوتی ہے سعودی عرب میں زندہ ٹڈیاں خریدی جاتی ہیں اور انہیں پکانے کے 2طریقے ہیںایک طریقہ یہ ہے کہ ٹڈیوں کو پانی میں ابالنے کے بعد تیل میں فرائی کیا جاتا ہے اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انہیں چاولوں کیساتھ پکا کر کھایا جاتا ہے۔افریقی ممالک میں ٹڈیوں کو خشک کرکے پکایا جاتا ہے اوربعض ممالک میں تو ٹڈیوں کو سینڈوچ ڈال کر کھایا جاتا ہے۔ماہرین کا کہناہے کہ ٹڈیاں پروٹین سے بھرپور ہوتی ہیں ان میں 62 فیصد پروٹین، 17 فیصد تیل اور 21 فیصد میگنیگشیم ، کیلشیئم ، آئرن، سوڈیم، پوٹاشیم اور فاسفورس ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہناہے کہ ٹڈیاں کھانے سے مختلف موسمی بیماریاں ختم ہوتی ہیں۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی ہلاکت کی دعا مانگی ہے اور یہ بھی ارشاد فرمایا تم ٹڈیوں کو ہلاک مت کیا کرو کیونکہ یہ تو حق تعالی کا لشکر (فوج) ہے (طبرانی و بہیقی). علامہ دمیری فرماتے عدم قتل کا حکم اس وقت صحیح ہے جب تک کھیتی وغیرہ کو کوئی نقصان نہ پہنچائے ، ایک اور جگہ ٹڈیوں کے بارے میں درج ہے کہ حضرت ابن عبد اللہ فرماتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں ایک سال ٹڈیاں مفقود ہوگئیں جس کا فاروق اعظم کو بہت غم ہوا آپ نے ٹڈیوں کی تلاش کے لیے چاروں طرف آدمی دوڑادیے کسی کو شام کی طرف بھیجا کسی کو عراق کی طرف اور کسی کو یمن کی طرف، جو یمن کی جانب ٹڈی تلاش کرنے گیا تھا اس نے تلاش کرکے عمر فاروق کی خدمت میں پیش کی جس کو دیکھ کر آپ کا غم ہلکا ہوا اور فرمایا حق تعالی نے ایک ہزار مخلوق کو پیدا کیا ہے جس میں چھ سو دریا میں رہتی ہیں اور چار سو خشکی میں اور جب حق تعالی مخلوق کو فنا کرنے کا ارادہ کریگا تو سب سے پہلے ٹڈیاں فنا کی جائیں گی اس کے بعد دیگر مخلوق۔ ابن عدی نے محمد بن عیسی کے ترجمہ میں اور ترمذی نے نوادرات میں یہ بات ذکر کی ہے کہ تمام مخلوق میں ٹڈی کو سب سے پہلے ہلاک کیا جائیگا کیونکہ یہ ٹڈی اس مٹی سی پیدا کی گئی ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کے پیدا کرنے کے بعد بچ گئی تھی۔ابن میسرہ کہتے ہیں کہ یحیی بن ذکریا علیہ السلام اکثر ٹڈی کا گوشت اور پھلوں کا گودا استعمال فرمایا کرتے تھے۔

حضرت عبد اللہ بن ابو اوفی فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ ۖ کے ساتھ غزوات میں شرکت کی جس میں ہم ٹڈی کا گوشت استعمال کرتے تھے ٹڈی کا گوشت کھانا مباح(وہ کام جو شرعاََحلال ہو نہ حرام) ہے اس پر تمام علمائے کرام کا اجماع ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہمارے لیے دو میتہ (مچھلی اور ٹڈی ) اور دو خون (جگر اور تلی ) حلال کردیے گئے۔سانچ کے قارئین کرام !مندرجہ بالا تحریر کچھ تاریخی حوالوں سے اور گزشتہ ماہ (جنوری2020)میں ٹڈی دل کے بارے رپورٹ کے متعلق تھی اب بات ہو جائے پنجاب بھر میں جاری ٹڈی دل کے لشکر کے حملوں اور حکومت پاکستان کے اقدامات کے حوالہ سے ،ساہیوال ڈویژن کے ایک اہم ضلع اوکاڑہ کی تحصیل دیپالپور کے پپلی پہاڑ کے علاقہ میں ٹڈی دل نے بڑی تعداد میں حملہ کیا اگرچہ ضلع بھر میں اور علاقوں میں بھی ٹڈی دل کے لشکر نے حملے کیے ہیں جس پر ضلعی انتظامیہ اور محکمہ زراعت نے سپرے اور دیگر طریقوں سے ٹڈی دل کو بھگانے اور مارنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ عثمان علی نے عوام اور خاص طور پر کسانوں کو ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے ایک زبردست پیشکش کی کہ ٹڈی دل پکڑ واور 20روپے کلو کے حساب سے پیسے انتظامیہ سے لے جائو جس کا نتیجہ اتنا حوصلہ افزا نکلا کہ لوگوں نے سینکڑوں کی تعداد میں بوریوں میں ٹڈی دل پکڑ کر انتظامیہ کے حوالہ کرنا شروع کر رکھی ہے اس مسئلہ کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ،وفاقی وزیر خوراک خسرو بختیار کا لیفٹینٹ جنرل محمد افضل چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ، سیکرٹری زراعت واصف خورشید، ڈائریکٹر جنرل ایف اے او ۔یو این Du .Dongyu ، احسن وحید کمشنر ساہیوال ڈویژن ،راجہ خرم شہزاد ڈائریکٹر جنرل نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی،ڈپٹی کمشنر ضلع اوکاڑہ عثمان علی، ڈائریکٹر جنرل زراعت ڈاکٹر انجم علی بٹر، ڈائریکٹر نظامت زرعی اطلاعات پنجاب محمد رفیق اختر سمیت دیگر اعلیٰ افسران کے ہمراہ ضلع اوکاڑہ کے اہم علاقہ پپلی پہاڑ کا دورہ کیا، ٹڈی دل سے متاثرہ فصلوں کا جائزہ لیا اورکسانوں کے نقصان کا تخمینہ لگانے کی ہدایت کی، ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ عثمان علی اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو)رئوف احمد نے وفاقی وزیر خسرو بختیار کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلعی حکومت نے ٹڈی دل سے نمٹنے کے لئے محکمہ زراعت کے عملہ کے ساتھ بھر پور اقدامات کیے ہیں جس سے ٹڈی دل کا خاتمہ بڑی حد تک ممکن ہو سکا ہے ، وفاقی وزیر خسرو بختیار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹڈی دل کا حملہ پاکستان میں 27 سال بعد ہوا ہے اور اس وقت بیک وقت تیس ممالک اس سے متاثر ہو رہے ہیں خسرو بختیار کا کہنا تھا پاک فوج، ایگریکلچرل، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور مقامی انتظامی افسران سے مل کر اس قدرتی آفت کا مقابلہ کیا جا رہا ہے جبکہ کابینہ کی جانب سے بھی اس معاملہ میں ایمرجنسی ڈکلیئر کر دی گئی ہے۔

متاثرہ کاشتکاروں ،کسانوں کو گھبرانے کی ہرگز ضرورت نہیں ان کے نقصان کا تخمینہ لگا کر ان کی مددکی جائے گی، وفاقی وزیر خسرو بختیار نے ڈی سی عثمان علی اور مقامی انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلع بھر میں85 فیصد تک ٹڈی دل پر قابو پا لیا گیا ہے ،وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹڈی دل کے حملہ کو ناکام بنانے اور فصلوں کو محفوظ کرنے کے لئے حکومت بھر پور کوششیں کر رہی ہے اور اس سلسلہ میں نیشنل ایمر جنسی کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ٹڈی دل کے خاتمہ کے لئے تمام متعلقہ حکومتی اداروں سمیت پاک فوج سے بھی مدد لی جا رہی ہے اور ٹڈی دل کے خاتمہ کے لئے کی جانے والی کوششوں کی موثر نگرانی کی جا رہی ہے ٹڈی دل کا خاتمہ موجودہ حالات میںاولین ترجیح ہے عوام اور کاشت کار بھائیوں کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے ہم نے اس پر اس پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے ۔ ٹڈی دل کا حملہ تقریبا 30ممالک پر ہے اور ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔

پاکستان میں ٹڈی دل 27سال کے بعد آیاہے اور اس کو کنڑول کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔ ٹڈی دل کے کنٹرول کیلئے نیشنل پلان کی تیاری آخری مرحلہ میں ہے ۔اب تک متاثرہ علاقوں میں50 ہزار لیٹر سے زائد پیسٹی سائیڈ کا سپرے کیا جا چکا ہے ۔وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ خسرو بختیار کے اس دورہ کے دوران لیفٹینٹ جنرل محمد افضل چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے یقین دلایا کہ ماہرین جو طریقہ ٹڈی دل کے خاتمہ کے لیے جو تجویز کریں اس پر عمل در آمد کے لیے ہم بھر پور تعاون کریں گے۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب واصف خورشید نے وفاقی وزیر خسرو بختیار کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹڈی دل ہجرت کے دوران گروہ کی شکل میں مختلف علاقوں میں وقتی طورپر رکتا ہے بعد ازاں کوچ کرجاتاہے۔ ٹڈی دل کے واپسی کے سفر کو موسمی حالات کی وجہ سے رکاوٹ آئی اور اس کا رُخ دوبارہ پنجاب کی طرف ہوگیا جس کو کنٹرول کرنے کیلئے مناسب تیاری کی گئی ہے ۔محکمہ زراعت پنجاب وفاقی اداروں خصوصاً فیڈرل پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ ودیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے ٹڈی دل کے کنٹرول کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کر رہا ہے۔ ٹڈی دل کے کنٹرول کیلئے ہنگامی بنیادوں پر میلاتھیان خرید کرسپرے کیلئے فراہم کی گئی ہے اور سپرے کیلئے زہروں کا انتظام موجود ہے۔ٹڈی دل کے کنٹرول کیلئے اب تک مجموعی طور پر 62 ہزارہیکٹرزسے زیادہ رقبہ پرسپرے کیا جاچکا ہے۔اب تک 51ہزار لٹر دوائی سپرے کی جا چکی ہے۔گزشتہ دنوں اسی مہم کے دوران جہاز گرنے سے ایک پائلٹ اور انجینئر شہید بھی ہوئے ہیں۔اب تک بہت زیادہ نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ٹڈی دل کی واپسی کا عمل جاری ہے اور جلد ہی اس قدرتی آفت سے نجات مل جائے گی۔اس موقع پر وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ خسرو بختیار نے کہا کہ حکومت اس آفت کا مقابلہ کرنے کیلئے کاشتکاروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔٭
MUHAMMAD MAZHAR RASHEED

تحریر : محمد مظہر رشید چودھری
03336963372

Share this:
Hazrat Abu Bakar Saddique
Previous Post حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اوصاف حمیدہ
Next Post پاکستان کرکٹ بورڈ کرکٹ کمیٹی کا چیئرمین بننے پر کمشنر کراچی کی جانب سے پروقار استقبالیہ کا انعقاد
Group Photo

Related Posts

Meta Smart Glasses: The Hidden Privacy Threat in Plain Sight

میٹا اسمارٹ گلاسز: فیشن ایبل چشمہ یا پوشیدہ نگرانی کا جدید ہتھیار؟

July 23, 2026
Google Launches AI Search Summaries in France

گوگل نے فرانس میں اے آئی سرچ کا نیا انجن لانچ کر دیا: اب لنک پر کلک کیے بغیر ہی ملے گا جواب

July 23, 2026
Wildfire Near Arcachon Forces 20,000 Evacuations

آرکاشوں کے قریب جنگل کی ہولناک آگ: 24 گھنٹوں میں 20 ہزار افراد کا انخلاء، 2400 ہیکٹر رقبہ خاکستر

July 23, 2026
DZ Mafia Denies Targeting Mayor in Video

ڈی زیڈ مافیا کی ویڈیو جاری، میئر کو دھمکیوں سے لاتعلقی کا اعلان: “ہمارے کاروبار کو نقصان پہنچ رہا ہے”

July 23, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.