فرانس کے علاقے سین-سینٹ-ڈینی کے شہر سینٹ ڈینی میں واقع پال ایلوارڈ ہائی اسکول کے باہر طلبہ کی بڑی تعداد جمع ہے، جہاں طلبہ کئی ہفتوں سے تعلیمی ادارے کی بندش پر احتجاج کر رہے ہیں۔ اس تحریک کی ایک اہم وجہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے وسائل کی کمی اور مبینہ بدسلوکی ہے۔ اس مظاہرے میں عالمی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کی موجودگی نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔
گریٹا تھنبرگ کا اظہارِ یکجہتی
سویڈن کی 23 سالہ ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، جو 2018 میں اسکول کی ہڑتال سے عالمی شہرت کی حامل بنیں، منگل کی صبح سینٹ ڈینی میں مظاہرین کے ساتھ شامل ہوئیں۔ انہوں نے اسکول کے سامنے جمع طلبہ اور اساتذہ کی حمایت کا اعلان کیا، جہاں پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے گریٹا تھنبرگ نے کہا: “اگر ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جو نوجوانوں کو نظر انداز کرتا ہے، جو مستقبل ہیں، تو یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ معاشرے نے ہار مان لی ہے۔ لہٰذا، اب وقت آ گیا ہے کہ نوجوان اٹھیں اور اپنے حقوق واپس لیں۔”
وکلاء کی شرکت اور احتجاج کی تفصیلات
اس موقع پر تقریباً بیس وکلاء بھی موجود تھے جنہوں نے “طلبہ کے تحفظ کے لیے وکالت کی قطار” بنانے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام طلبہ کی حفاظت اور ان کے حقوق کی حمایت کے لیے کیا گیا۔
- پال ایلوارڈ ہائی اسکول میں طلبہ کئی ہفتوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔
- احتجاج کی بنیادی وجہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے وسائل کی کمی اور مبینہ بدسلوکی ہے۔
- گریٹا تھنبرگ نے مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
- بیس وکلاء نے طلبہ کے تحفظ کے لیے شرکت کی۔
پس منظر اور اہمیت
یہ احتجاج فرانس میں تعلیمی اداروں میں وسائل کی کمی اور انتظامیہ کے رویے کے خلاف بڑھتی ہوئی تحریک کا حصہ ہے۔ گریٹا تھنبرگ کی شرکت نے اس تحریک کو بین الاقوامی توجہ دلائی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نوجوانوں کے حقوق اور ماحولیاتی انصاف کے مطالبات آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔
سینٹ ڈینی میں جاری یہ احتجاج نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ قومی سطح پر بھی تعلیمی پالیسیوں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق بحث کو ہوا دے رہا ہے۔
