پیرس: گذشتہ کچھ مہینوں سے خوراک میں آلودگی کے حوالے سے انتباہات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چاکلیٹ میں کڈمیم، مچھلیوں میں میتھائل مرکری، خوراکی سمندری گھاس میں آرسینک اور بچوں کے دودھ میں خطرناک زہریلے مادوں کی موجودگی نے عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
حالیہ تحقیق کے اہم نتائج
فرانس کی قومی صحت سیکیورٹی ایجنسی (ANSES) نے 12 فروری کو جاری ہونے والی ایک وسیع تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ خوراک میں بھاری دھاتوں (کڈمیم، سیسہ، ایلومینیم، پارہ) اور ایکرائل امائیڈ کی آلودگی تشویشناک حد تک موجود ہے۔ یہ خطرناک مادے اعلی درجہ حرارت پر کھانا پکانے کے دوران بنتے ہیں۔
اگرچہ 2000 کی دہائی کے آغاز کے مقابلے میں کچھ بہتری آئی ہے، لیکن ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ مادے “آبادی کے تمام یا کچھ حصوں کے لیے اب بھی حد سے زیادہ ہیں”۔
عوامی ردعمل اور ماہرین کی رائے
خوراکی آلودگی سے متعلق مسلسل آنے والی اطلاعات نے فرانسیسی شہریوں میں اضطراب پیدا کر دیا ہے۔ ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ:
- خوراکی مصنوعات کی تیاری میں احتیاطی تدابیر ناکافی ہیں
- طویل مدتی صحت پر ان مادوں کے اثرات خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں
- حکومتی سطح پر سخت قوانین کی فوری ضرورت ہے
عوام سے اپیل
تحقیقی ادارے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے تجربات اور خدشات شیئر کریں۔ خاص طور پر درج ذیل سوالات پر عوامی رائے درکار ہے:
- کیا خوراک خریدتے یا پکاتے وقت آپ کو خاص اضطراب محسوس ہوتا ہے؟
- کیا ان انکشافات نے آپ کی خریداری کی عادات کو متاثر کیا ہے؟
- کیا آپ اپنے بچوں کے حوالے سے کسی قسم کے احساس جرم کا شکار ہیں؟
یہ تحقیق غذائی تحفظ کے شعبے میں پالیسی سازی کے لیے اہم ثابت ہوگی اور امید کی جا رہی ہے کہ اس کے نتائج کے بعد خوراک میں آلودگی کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
