سرد موسم میں بے گھر افراد کے لیے خطرات میں اضافہ
پیرس میں گذشتہ ہفتے کے دوران ایک خاتون اور دو مرد بے گھر افراد کی لاشیں مختلف مقامات سے برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق، ان واقعات کے بعد نوویں اور دسویں آرونڈسمینٹ میں موت کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
واقعات کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق، یکم دسمبر کو نوویں آرونڈسمینٹ میں پچاس سالہ ایک بے گھر مرد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا۔ اسی طرح 30 نومبر کو دسویں آرونڈسمینٹ میں ایک اور بے گھر مرد کی لاش عوامی مقام پر پڑی پائی گئی۔ اس سے قبل 26 نومبر کو پندرہویں آرونڈسمینٹ میں ایک خاتون کی لاش خیمے کے اندر ملی تھی۔ تینوں ہی متوفی افراد کی شناخت اب تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
فرانس میں بے گھر اموات کا المناک ریکارڈ
یہ واقعات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ‘لیس مورٹس ڈی لا رو’ نامی تنظیم نے 2024 کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال فرانس میں 912 بے گھر افراد ہلاک ہوئے، جو 2012 کے بعد سے اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
- کل اموات کا 37 فیصد صرف ایل-ڈی-فرانس خطے میں ریکارڈ کیا گیا
- ہلاک ہونے والوں میں چند روز کے بچوں سے لے کر 93 سالہ بزرگ افراد شامل ہیں
- 15 سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں 2012-2023 کے مقابلے میں دوگنا اضافہ دیکھا گیا
ماہرین کی رائے
تنظیم کی رکن ایڈیل لینورمنڈ نے خبردار کیا ہے کہ “تمام اشارے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں، اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے”۔ انہوں نے زور دیا کہ بے گھر افراد کے تحفظ کے لیے جامع پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلیوں اور سماجی تحفظ کے نظام میں خامیوں کے باعث بے گھر آبادی کے لیے حالات دن بدن مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ سردیوں کے موسم میں بے گھر افراد کے لیے رہائش اور طبی سہولیات میں فوری اضافہ کریں۔