خوفناک سانحہ
ہانگ کانگ میں گذشتہ کئی دہائیوں کے بدترین آتشزدگی کے شعلے مکمل طور پر بجھا دیے گئے ہیں۔ جمعے کے روز فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پانے کے آپریشنز کا اختتام کر دیا، تاہم اب بھی متعدد افراد لاپتہ ہیں۔
ہلاکتوں کا نیا اعداد و شمار
حکومتی ترجمان کے مطابق آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے۔ یہ آگ بدھ کے روز شہر کے ایک رہائشی کمپلیکس میں بھڑکی تھی جس کے نتیجے میں 128 افراد ہلاک اور 79 زخمی ہوئے۔ محکمہ سیکیورٹی کے سربراہ کرس ٹانگ نے تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والوں میں سے 89 افراد کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی۔
لاپتہ افراد کے حوالے سے صورتحال
کرس ٹانگ کے مطابق 200 افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جن میں وہ ہلاک شدگان بھی شامل ہیں جن کی شناخت نہیں ہو سکی۔ 7.5 ملین آبادی والے ہانگ کانگ میں کثافتِ آبادی 7,100 افراد فی مربع کلومیٹر ہے جو شہری علاقوں میں تین گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔
ریسکیو آپریشنز کی تفصیلات
واںگ فوک کورٹ کے 31 منزلہ عمارتوں میں سیکڑوں فائر فائٹرز نے 40 گھنٹے تک آپریشن جاری رکھا۔ اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے دیکھا کہ ریسکیو کارکنوں نے کم از کم چار لاشوں کے تھیلے نکالے جو ملبے سے برآمد ہوئے تھے۔ دیگر لاشوں کے تھیلے شاٹن کے مقام پر واقع مردہ خانے میں پہنچائے گئے ہیں۔
تحقیقاتی عمل
حکومت کے ابتدائی بیانات کے مطابق آگ کی تیز رفتار پھیلاؤ کی وجہ بانس کے اسکافولڈنگ اور آسانی سے آگ پکڑنے والے تعمیراتی مواد کا استعمال تھا۔ محکمہ محنت نے بتایا کہ کنٹریکٹر کو ماضی میں بھی حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی پر کئی بار نوٹس دیے گئے تھے۔
- پولیس نے تین افراد کو “شدید غفلت” کے الزام میں گرفتار کیا ہے
- عمارتوں کا الارم سسٹم درست طریقے سے کام نہیں کر رہا تھا
- تحقیقات میں مزید 3 سے 4 ہفتے لگ سکتے ہیں
ریلیف اور امدادی سرگرمیاں
مقامی حکومت نے متاثرین کی مدد کے لیے 300 ملین ہانگ کانگ ڈالر (38.5 ملین امریکی ڈالر) کے فنڈ کا اعلان کیا ہے۔ نو عارضی پناہ گاہیں کھولی گئی ہیں جبکہ 7 دسمبر کے انتخابی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔
عوامی یکجہتی
اس سانحہ کے بعد عوام میں زبردست یکجہتی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رضاکاروں نے متاثرین کے لیے کپڑے، خوراک اور طبی و نفسیاتی مدد کے اسٹال لگائے۔ یکجہتی کا یہ عالم ہے کہ تنظیم کاروں نے سوشل میڈیا پر پیغام دیا کہ اب انہیں مزید امداد کی ضرورت نہیں ہے۔

