یو ای کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اور پابندیوں کی منظوری میں رکاوٹ
یورپی یونین کی سربراہ خارجہ کاجا کالاس نے تسلیم کیا ہے کہ روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے معاملے پر 27 ممالک کا متفق نہ ہونا ایک ‘ناکامی’ ہے۔ انہوں نے یہ بات یو ای کے وزرائے خارجہ کے برسلز اجلاس کے بعد کہی۔ کالاس نے کہا، “یہ ایک ناکامی ہے اور ایسا پیغام ہے جو ہم آج بھیجنا نہیں چاہتے تھے، لیکن کام جاری رہے گا۔”
ہنگری کا مطالبہ اور ویٹو کی وجہ
ہنگری کے ویٹو کی وجہ سے یورپی یونین روس پر 20 ویں پابندیاں لگانے میں ناکام رہا ہے۔ ہنگری نے اس ہفتے کے شروع میں ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ اس معاملے پر ویٹو کرے گا جب تک کہ اسے یوکرین سے ہونے والی روسی تیل کی ترسیل بحال نہیں ہو جاتی۔ ہنگری کے وزیر خارجہ پیٹر سزیجارٹو نے کہا، “ہنگری اس پر ویٹو کرے گا۔ جب تک یوکرین ڈروژبا پائپ لائن کے ذریعے ہنگری اور سلوواکیہ کو تیل کی ترسیل بحال نہیں کرتا۔”
یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے قرضے پر بھی سوالیہ نشان
ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے کہا ہے کہ وہ اسی وجہ سے یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے قرضے کی منظوری کو بھی روکیں گے، جس پر یورپی یونین کے رہنماؤں نے دسمبر میں اتفاق کیا تھا۔ کاجا کالاس نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یورپی کونسل کی متفقہ فیصلوں کا احترام کیا جانا چاہیے۔
یورپی رہنماؤں کی یوکرین روانگی اور مستقبل کے اقدامات
یورپی کونسل کے صدر انٹونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین منگل کو کیف پہنچیں گے، جہاں وہ یوکرینی صدر زیلنسکی سے اس معاملے پر بات کریں گے۔ کوسٹا نے اوربان کو خط لکھ کر خبردار کیا ہے کہ یورپی کونسل کے فیصلوں کی خلاف ورزی وفادارانہ تعاون کے اصولوں کے خلاف ہے۔
ڈروژبا پائپ لائن تنازعہ اور یوکرین پر الزامات
ہنگری اور سلوواکیہ یوکرین پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ ڈروژبا پائپ لائن کی بحالی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ پائپ لائن روسی حملوں میں تباہ ہوئی تھی۔ سلوواکیہ کا دعویٰ ہے کہ پائپ لائن مرمت کے بعد تیار ہے لیکن یوکرین اسے بند رکھے ہوئے ہے تاکہ سلوواکیہ اور ہنگری پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
فرانس اور اسٹونیا کا ردعمل
فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا ہے کہ روس پر 20 ویں پابندیاں عائد کرنا یقینی ہے، سوال صرف وقت کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک کو اپنے وعدوں کا پاس رکھنا چاہیے۔ اسٹونیا کے وزیر خارجہ مارگس تساحکنا نے خبردار کیا کہ اگر یورپی یونین روس پر پابندیاں عائد نہیں کر سکتا تو روس کو فائدہ ہوگا۔
یورپی یونین کی نئی پابندیوں کی تجاویز
یورپی یونین نے فروری کے شروع میں روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی تجاویز پیش کی تھیں، جن کا نشانہ بینکنگ اور توانائی کے شعبے ہیں۔ ان میں روسی تیل لے جانے والے جہازوں کو سمندری خدمات فراہم کرنے پر پابندی بھی شامل ہے۔ کاجا کالاس نے یہ بھی اعلان کیا کہ انہوں نے یورپی یونین میں روسی سفارتکاروں کی تعداد 40 تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
