امریکی امیگریشن پولیس (آئی سی ای) ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس کے اہلکاروں نے گزشتہ ہفتے ٹیکساس میں ایک میکسیکن شہری کو جان بوجھ کر گاڑی سے ٹکر مار کر شدید زخمی کر دیا، جس کے بعد اسے متعدد سرجریوں سے گزرنا پڑا۔ یہ اطلاع متاثرہ شخص کے وکیل نے پیر کے روز دی۔
کیا واقعہ پیش آیا؟
گزشتہ ہفتے، 48 سالہ تعمیراتی مزدور میگوئل پارا اپنے کام پر جا رہے تھے جب آئی سی ای کی ایک ٹیم ہیوسٹن میں کارروائی کر رہی تھی۔ نگرانی کی ویڈیو فوٹیج کے مطابق، ایک سیاہ رنگ کی ایس یو وی نے اس شخص کی طرف تیزی سے گاڑی بڑھائی، جو ابھی اپنی گاڑی سے اتر کر پیدل چل رہا تھا۔
امیگریشن پولیس کے حکام نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ میگوئل پارا “آئی سی ای کی گاڑی کے سامنے بھاگ رہے تھے” اور انہیں “ٹکر مار دی گئی”۔ تاہم، متاثرہ شخص کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ جان بوجھ کر کیا گیا حملہ تھا۔
وکیل کا موقف
میگوئل پارا کی وکیل محترمہ کم برونو نے واضح طور پر کہا کہ “جو کچھ ہوا وہ حادثہ نہیں بلکہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا۔” انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے موکل 14 سال کی عمر سے امریکہ میں مقیم ہیں اور ان کے ریکارڈ میں کوئی مجرمانہ سرگرمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ “وہ ایک اچھے انسان ہیں، ان کے ریکارڈ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کبھی بھی امیگریشن حکام کے ساتھ کوئی جھگڑا یا گرفتاری نہیں ہوئی۔”
زخموں کی نوعیت
انسانی حقوق کی تنظیم فیئل ہیوسٹن کے ڈائریکٹر سیزر ایسپینوسا کے مطابق، میگوئل پارا کو کولہے، گھٹنے کے نیچے اور ٹخنے کی ہڈی میں فریکچر سمیت متعدد زخم آئے ہیں۔ ان کی ٹانگ کی سرجری ہو چکی ہے اور مزید آپریشنز کی ضرورت ہے تاکہ ٹانگ کو دوبارہ درست کیا جا سکے۔
آئی سی ای کا بیان اور تفتیش
آئی سی ای کا دعویٰ ہے کہ وہ میگوئل پارا کی گاڑی میں سوار ایک شخص کو گرفتار کرنا چاہتی تھی جس کے ریکارڈ میں مجرمانہ سرگرمیاں درج تھیں۔ لیکن متاثرہ شخص کے بھائی نے سی این این کو بتایا کہ جس شخص کو تلاش کیا جا رہا تھا وہ “میرے بھائی کے ساتھ نہیں تھا” اور ان کا اس شخص سے کوئی تعارف نہیں۔
ڈسٹرکٹ اٹارنی شان ٹیئر نے ممکنہ طور پر مہلک ہتھیار کے استعمال سے سنگین تشدد کے الزام میں تفتیش شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “گاڑی اور پیدل چلنے والوں کے درمیان حادثات کی تفتیش میں کئی دہائیوں کا تجربہ رکھنے والے متعدد تفتیش کاروں نے ویڈیو فوٹیج دیکھی اور سب کا ماننا ہے کہ یہ حادثاتی ٹکراؤ نہیں تھا۔”
آئی سی ای کے خلاف بڑھتا ہوا غم و غصہ
آئی سی ای کے اہلکار، جو بھاری ہتھیاروں سے لیس اور اکثر نقاب پوش ہوتے ہیں، اپنے جارحانہ طریقوں کی وجہ سے ملک بھر میں شدید مخالفت کا سامنا کر رہے ہیں۔ جنوری میں منیاپولس میں ان کے ہاتھوں دو امریکی شہریوں کی گولی مار کر ہلاکت کے بعد سے ایجنسی کے خلاف عوامی غم و غصہ مزید بڑھ گیا ہے۔
یہ واقعہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر قیادت غیر قانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر گرفتاری اور ملک بدری کی پالیسی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس میں آئی سی ای ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
