بارسٹر عمیر نیازی کا کہنا ہے کہ ایسی بات چیت میں رعایت دینی پڑتی ہے، نواز شریف اس کی بڑی مثال ہیں
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی دو سال سے زائد قید کے دوران پارٹی کے ایک رہنما نے کہا ہے کہ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف کی طرح کسی معاہدے کے ذریعے رہا نہیں ہونا چاہتے۔
انہوں نے مزید کہا، ’’ان بات چیتوں کی انہوں نے قیمت چکائی؛ انہیں عملی سیاست چھوڑنی پڑی، ملک چھوڑنا پڑا، جلاوطنی اختیار کرنی پڑی، اور ایک کاغذی معاہدے پر دستخط کرنے پڑے۔‘‘
حکومت کی جانب سے معاہدے کی تردید
ایک طرف پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات ہیں تو دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے عمران خان کے حوالے سے کسی ممکنہ معاہدے یا رعایت کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔
انہوں نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پوسٹ میں کہا، ’’عمران کے حوالے سے کوئی ڈیل یا رعایت نہیں ہے۔ عمران ایک مجرم ہے اور رعایت کا تاثر دینا سراسر غلط ہے۔ اس حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں۔‘‘
رہائی کے لیے نئی ’فورس‘ کا اعلان
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حال ہی میں سابق وزیراعظم کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے ’عمران خان رہائی فورس‘ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسی پروگرام میں پی ٹی آئی کے بارسٹر عمیر نیازی نے کہا کہ ان کے خیال میں پارٹی کے کسی بھی سطح پر اس معاملے پر کوئی مشاورت نہیں ہوئی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ عمران خان کے احکامات واضح ہیں اور انہوں نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کو حکومت سے بات چیت اور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا مکمل اختیار دے رکھا ہے۔
پی ٹی آئی کی حکمت عملی اور رمضان کے بعد کے منصوبے
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے اطلاعات کے معاون خاص شفیع اللہ جان نے جیو نیوز کے پروگرام ’آج شہزاد خانزادہ کے ساتھ‘ میں کہا کہ وہ کسی خفیہ رابطے پر یقین نہیں رکھتے اور اسلام آباد میں دھرنے پی ایچ سی کے احکامات کی وجہ سے ختم کیے گئے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم کچھ اور سوچ رہے ہیں، کچھ اور منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ہم ان شاء اللہ رمضان کے بعد پھر آئیں گے۔‘‘ جان نے مزید کہا کہ ’رہائی فورز‘ ایک پرامن فورس ہوگی جس میں نوجوان شامل ہو سکیں گے اور یہ پی ٹی آئی کا سیاسی ونگ نہیں ہوگی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمران خان کی رہائی کا معاملہ ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جس کے لیے دونوں اطراف سے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
