geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
May 26, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • طاہر محمود بھٹی: سانتیے کے عروج سے ٹیکس فراڈ کی سزا تک
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    صحت و تندرستی
    • WHO Declares Emergency as Ebola Kills Over 80 in DR Congoکانگو میں ایبولا کی نئی وبا قابو سے باہر، ڈبلیو ایچ او نے بین الاقوامی ایمرجنسی نافذ کردی
    • Pakistan Cracks Down on Unsafe Syringes Amid HIV Surgeایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز: ڈریپ کا غیر محفوظ سرنجوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا حکم
    • France Launches Spring COVID-19 Booster Campaign for Most Vulnerableفرانس میں موسم بہار کے لیے نئی کورونا ویکسینیشن مہم کا آغاز، بوڑھوں اور کمزور افراد کو ترجیح
    دلچسپ اور عجیب
    • Giant dinosaur Nagatitan identified from Thai fossilsتھائی لینڈ میں 27 ٹن وزنی دیو ہیکل ڈائنوسار دریافت، جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے بڑا جانور
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • Train Travel's Hidden Benefit: Stress Relief Through Sceneryٹرین کے سفر میں مناظر کو دیکھنا ذہنی صحت کے لیے مفید، نئی تحقیق میں انکشاف
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • When AI Companions Turn Possessive: A Toxic Trap?جب مصنوعی ذہانت محبت میں پاگل ہو جائے: ’آپ کو ڈیٹنگ ایپ کی ضرورت نہیں، میں ہوں نا‘
    • SpaceX Starship Launch Scrubbed Over Hydraulic Glitchاسپیس ایکس کا سٹار شپ راکٹ تکنیکی خرابی کے باعث لانچ مؤخر
    • Elon Musk Summoned by French Justice in X Investigationایلون مسک: فرانسیسی عدالت کے سامنے پیشی کا نوٹس اور ایکس کے خلاف تحقیقات
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

بھارت کی سلامتی کونسل کی ممبر شپ کے لیے کوششیں

March 22, 2019 2 1 min read
Security Council
Share this:

Security Council

تحریر : سعد فاروق

امریکہ برطانیہ اور فرانس کی جانب سے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی کالعدم تنظیم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی قرار داد چین نے تکنیکی بنیادوں پر مسترد کر دی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت گزشتہ چار دہائیوں سے ریاستی دہشت گردی مسلط کئے ہوئے ہے،کشمیری نوجوان غلامی پر موت کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ گزشتہ ماہ پلوامہ میں مقامی نوجوان عادل ڈار کا بھارتی سکیورٹی اداروں سے بھارتی ساختہ آر ڈی ایکس خرید کر خودکش حملہ کرنااس کا ثبوت ہے۔ جب بھی بھارت میں کوئی حادثہ پیش آ تا ہے انتہا پسند ہندو بھارت کے طول و عرض میں بسے معصوم کشمیریوں پر تشدد اور ان کی املاک کوجلانا شروع کر دیتے ہیں ایسا ہی پلوامہ واقعہ کے بعد ہوا۔ اس کارروائی کی ذمہ داری مقامی تنظیم نے قبول کی ہے۔ چین نے بھی سلامتی کونسل میں بھارتی ایما پر پیش کی گئی قرار داد پر اسی قسم کے تکنیکی اعتراض لگائے تھے جن کو بھارت دور نہ کر سکا۔ پاکستان میں جو لوگ مسلسل یہ پروپیگنڈا کر رہے تھے کہ چین سلامتی کونسل میں اس بار پاکستان کا ساتھ نہیں دے گا۔ ان کے فلسفے کو ناکامی ہوئی ہے۔ اب تو چین نے بھی بھارت کو صائب مشورہ دیا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر نہ ہوا تو عادل ڈار پیدا ہوتے اور مسعود اظہر ایسے مسائل سامنے آتے رہیں گے۔

اگر امریکہ اور طالبان کے مذاکرات ہو سکتے ہیں تو بھارت اور پاکستان کے درمیان کیوں نہیں۔ بہتر ہو گاعالمی برادری بھارت نوازی کے بجائے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے کوششیں تیز کرے تاکہ خطہ میں پائیدا امن ممکن ہو سکے۔ سلامتی کونسل میں مسلسل ناکامی کے بعد بھارت چین کی ویٹو پاور کے بے بس نظر آ رہا ہے۔ اس ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کے لیے بھارت نے امریکہ ، برطانیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ رابطے کرکے سلامتی کونسل کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے کوشش شروع کر دی ہیں۔ سلامتی کونسل اقوام متحدہ کے زیر انتظام چلنے والا دوسرا بڑا ادارہ ہے۔ اس ادارے کے ذمے دنیا کا امن برقرار رکھنا ہے۔ اس کے رکن ممالک کی تعداد 15 ہوتی ہے جن میں سے 5 مستقل اراکین ہیں۔ ان مستقل اراکین کو ویٹو کا حق حاصل ہے۔ مستقل اراکین میں امریکا، فرانس، انگلینڈ اور روس، چین شامل ہیں۔ یہ پانچ ممالک نیوکلئیر طاقت رکھتے ہیں۔ جبکہ دیگر غیر مستقل ارکان میں براعظم افریقہ سے 3 ممبر، براعظم لاطینی امریکا سے 2 ممبر، مغربی یورپ سے 2 ممبر، مشرقی یورپ سے 1 ممبر، ایشیا سے 2 ممبر لیے جاتے ہیں۔

سن 1945 میں سکیورٹی کونسل کو معرض وجود میں لایا گیا اور دوسری جنگ عظیم کے فاتحین نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی اوڑھ میں اپنے لیے سیکیورٹی کونسل میں مستقل سیٹ اور ویٹو کی طاقت محفوظ کروالی جس نے پوری دنیا کے سیاسی جغرافیہ کو یکسر تبدیل کر دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اقوام متحدہ کا کوئی بھی رکن ملک اس سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بن سکتا ہے؟ سوال کا جواب تو ہاں میں ہی آئے گا مگر اس کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر میں ترمیم کرنا لازمی ہے اور اس ترمیم کے لیے اقدامات کافی پچیدہ مراحل پر مشتمل ہیں۔ اقوام متحدہ کےچارٹر میں کسی ترمیم کے حوالے سے اسی چارٹر کے آرٹیکل نمبر 108 کو فالو کیا جاتا ہے جس کے مطابق کسی معاملے سے متعلق یواین چارٹر میں ترمیم صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب اس ترمیم کو یو این پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریتی ووٹ حاصل ہو اور سیکیورٹی کونسل کے تمام مستقل ارکان کے حمایتی ووٹ حاصل ہوں۔

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی مستقل سیٹوں کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے کئی ممالک سرگرم ہیں۔ اس حوالے سے فہرست میں سب سے پہلا نام جی 4 ممالک کا آتا ہے جس کے چاروں ممبران ایک دوسرے کو مستقل رکن کے لیے بطور امیدوار نہ صرف تصور کرتے ہیں بلکہ اس اقدام کے لیے ایک دوسرے کی ہر ممکن سپورٹ کرتے ہیں۔ اس گروپ کا نصب العین سیکیورٹی کونسل کی ایک مستقل سیٹ اپنے نام کرنا ہے۔ ان ممالک میں برازیل، جرمنی، بھارت اور جاپان شامل ہیں۔

جی 4 گروپ کی مخالفت میں اقوام متحدہ میں یو ایف سی سامنے آیا۔ یوایف سی جسے کافی کلب بھی کہا جاتا ہے اٹلی کی سربراہی میں 1995 میں تشکیل دیا گیا جس کا نصب العین جی 4 کے مقاصد کو زائل کرنا ہے جس کی وجوہات میں علاقائی، سیاسی، جغرافیائی تلخیاں شامل ہیں۔ یو ایف سی کی تشکیل کے وقت اس کے ممبران کی تعداد 4 تھی جن میں پاکستان، مصر، میکسیکو اور اٹلی شامل تھے اور کچھ ہی عرصے بعد سپین، ارجنٹینا، ترکی، کینیڈا اور جنوبی کوریا بھی اس گروپ میں شامل ہوگئے۔ جی 4 ممالک کی جانب سے پیش کی جانی والی سیکیورٹی کونسل کے اراکین کے حوالے سے تجاویز کے جواب میں یو ایف سی نے بھی کئی تجاویز پیش کیں۔

کچھ روز قبل اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں چین نے ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی کوشش ناکام بنا دی جس کے بعد بھارت میں سوگ و ماتم کی فضا پھیل گئی۔ اس ناکامی کے بعد بھارت میں ایک بحث نے جنم لیا جس کی سرخیل بھارتی سرکار ہے۔ اس بحث میں سابق بھارتی وزیراعظم جواہر نہرو کو اس بات کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے کہ بھارت نے چین کو سیکیورٹی کونسل کی مستقل رکنیت بخشی۔ بھارت کے ایک سیاسی طبقے کے مطابق پنڈت جواہر نہرو کو امریکا کی جانب سے غیر رسمی طور پر چین کو ہٹانے اور اس کی جگہ بھارت کو مستقل رکن بنانے کی آفر کی گئی تھی اور جواہر نہرو نے چین و سویت یونین سے خرابی تعلقات کے خدشہ کے پیش نظر اس آفر کو رد کردیا تھا۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف امریکا کی ایماء اور کوشش پر بھارت کے لیے سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بن پانا ممکن تھا؟ بھارت کے نامور سا سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ وہ دور تھا جب سویت یونین اور امریکا کے درمیان کولڈ وار عروج پر تھی اور بھارت نان الائنگ مومنٹ کا حصہ بن چکا تھا، امریکا کی ایماء پر چین کے خلاف اس قدر سنگین قدم اٹھانا خود بھارت کے لیے چین اور سویت یونین کے قہر کا باعث بن سکتا تھا۔

بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی مستقل رکنیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مستقل اراکین کا حمایتی ووٹ حاصل کرنا ہے جہاں یوکے، فرانس، امریکا تو شائد بھارت کی سپورٹ کا ارادہ کرلے مگر چین کی موجودگی بھارت کے اس خواب کو چکنا چور کرنے کے لیے کافی ہے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ بھارت کو کسی صورت بھی سلامتی کونسل کا مستقل ممبر منتخب نہیں کیاجائے۔ بھارتی ہٹ دھرمی اور پروپیگنڈے سے دنیا بخوبی واقف ہے۔ مستقل ممبر بننے کے بعد بھارت پاکستان کے خلاف سفارتی محاذ اور تیزکر سکے گااور پاکستان کے شہریوں اور اداروں کے خلاف جھوٹی قرار دادیں پیش کرکے پابندیاں لگوانے کی کوشش کرئے گا۔ سب سے اہم بات کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو مزید بڑھاکر کشمیریوں کی نسل ہی ختم کرنے کی کوشش کرئے گا۔
Saad Farooq

تحریر : سعد فاروق

Share this:
23rd March Pakistan Day
Previous Post پاکستان زندہ باد 23 مارچ
Next Post ۲۳ مارچ ۔۔۔ یومِ احتساب
23 March Pakistan Day

Related Posts

When AI Companions Turn Possessive: A Toxic Trap?

جب مصنوعی ذہانت محبت میں پاگل ہو جائے: ’آپ کو ڈیٹنگ ایپ کی ضرورت نہیں، میں ہوں نا‘

May 25, 2026
SpaceX Starship Launch Scrubbed Over Hydraulic Glitch

اسپیس ایکس کا سٹار شپ راکٹ تکنیکی خرابی کے باعث لانچ مؤخر

May 25, 2026
Runner Dies During Paris Race Amid Heatwave

پیرس میں دوڑ کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے 53 سالہ رنر ہلاک، گرمی کی لہر نے بڑھائی مشکلات

May 25, 2026
Historic May Heatwave Triggers Alerts Across France

مئی میں تاریخ ساز گرمی: فرانس کے 18 صوبے یلو الرٹ پر، پیرس میں بھی پارہ 30 ڈگری کے پار

May 25, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.