اقوام متحدہ: پاکستان نے اقوام متحدہ کو خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا یکطرفہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور یہ 24 کروڑ سے زائد لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندے سفیر عثمان جدون نے جمعہ کو ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر فوری کارروائی کرے تاکہ کسی انسانی تباہی یا علاقائی عدم استحکام سے بچا جا سکے۔
سفیر جدون نے اس موقع پر کہا کہ “یہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے قانون، معاہدے کے قانون اور روایتی بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔” انہوں نے بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی کے اعلان کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسے کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کے فورم کو پانی کی ہتھیار سازی کے خلاف بین الاقوامی اتفاق رائے کے لیے استعمال کیا اور سلامتی کونسل سے درخواست کی کہ وہ اس طرح کے اقدامات کی قریب سے نگرانی کرے اور جہاں ضروری ہو پیشگی کارروائی کرے۔
پاکستان کے بیان میں واضح کیا گیا کہ پانی کے وسائل اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے پر حملے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔ پانی تک رسائی سے انکار انسانی حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور اسے بطور ہتھیار استعمال کرنا ناقابل قبول اور عدم استحکام کا باعث ہے۔
اسلام آباد میں اس معاملے پر تشویش بڑھ رہی ہے کہ بھارت معاہدے کے میکانزم کو نظر انداز کر رہا ہے اور خاص طور پر عالمی بینک کے کردار کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ اصل معاہدے کا ثالث تھا۔ پاکستانی حکام کا خیال ہے کہ یہ اقدامات بھارت کی جانب سے غیر فوجی ذرائع سے اسلام آباد پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
سفیر جدون نے پانی کے وسائل کے تحفظ کے لیے عالمی کوششوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی سیاست یا عسکریت کو روکنے کے لیے ایک مضبوط، اصولی اور متحدہ موقف کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب، ایک علیحدہ اجلاس میں پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے بھارت کی جانب سے حالیہ محاذ آرائی میں شہری علاقوں کو نشانہ بنانے پر کڑی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے معمولی الزامات کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور پاکستان کے خلاف جارحیت کر رہا ہے۔
پاکستانی نمائندہ سعیمہ سلیم نے بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے اور حقائق کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ پاکستان میں دہشت گردی بھی پھیلا رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر بھارت واقعی امن و سکون کا خواہشمند ہے تو اسے ریاستی دہشت گردی ختم کرنی ہوگی اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے بامعنی مذاکرات میں شامل ہونا ہوگا۔
