META_D: ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے مسودے میں تیل کی پابندیوں میں چھوٹ، جوہری پروگرام کی حدود اور 25 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی رہائی شامل ہے۔
ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو خصوصی تفصیلات بتائیں
تہران: ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ امریکہ کے ساتھے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے حتمی مسودے میں تہران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز کی بحالی اور امریکی تیل کی پابندیوں میں چھوٹ سمیت متعدد اہم امور شامل ہیں۔ عہدیدار کے مطابق، دونوں فریقوں کی جانب سے اس یادداشت کی توثیق کے بعد 60 دنوں کے اندر حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کر لیے جائیں گے۔
آبنائے ہرمز کی فوری بحالی اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ
مجوزہ مسودے کے تحت، ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی بحری جہازوں کے لیے دوبارہ کھول دے گا۔ اس کے بدلے میں، امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ عہدیدار نے وضاحت کی کہ ناکہ بندی کے خاتمے کا عمل یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد شروع ہو جائے گا اور 30 دنوں کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔
نئی پابندیاں عائد نہ کرنے کا وعدہ
ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ امریکہ نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ حتمی معاہدہ طے پانے تک ایران پر کوئی نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔ حتمی معاہدے کے بعد، تمام امریکی اور اقوام متحدہ کی پابندیاں باہمی طور پر طے شدہ ٹائم ٹیبل کے مطابق ہٹا دی جائیں گی۔
تیل کی پابندیوں میں چھوٹ اور 25 ارب ڈال کی رہائی
مسودے کے تحت، واشنگٹن ایک مخصوص مدت کے لیے ایران پر تیل کی پابندیاں معطل کر دے گا، جس سے تہران کو اپنی تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے اور اس سے متعلقہ آمدنی حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔ مزید برآں، اس یادداشت میں ایران کے 25 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کو براہ راست نقد ٹرانسفر، علاقائی تعاون کے طریقہ کار اور مالیاتی کریڈٹ انتظامات کے امتزاج کے ذریعے جاری کرنے کا تصور بھی پیش کیا گیا ہے۔
ایران کے لیے تعمیر نو اور ترقیاتی منصوبہ
یادداشت میں یہ شق بھی شامل ہے کہ امریکہ اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کے لیے تعمیر نو اور ترقی کا ایک منصوبہ تیار کرے گا۔ اس تجویز پر تہران کے ساتھ 60 دنوں کے اندر بات چیت کی جائے گی اور اسے حتمی شکل دی جائے گی۔
جوہری پروگرام پر پابندیاں اور افزودگی کی حدود
جوہری محاذ پر، ایران نہ تو جوہری ہتھیار تیار کرنے اور نہ ہی انہیں حاصل کرنے کا عہد کرے گا۔ حتمی معاہدے تک، تہران مزید یورینیم افزودگی اور جوہری تنصیبات کی توسیع سے گریز کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال کو برقرار رکھے گا۔
انتہائی افزودہ یورینیم کو ایرانی سرزمین پر ہی تحلیل کرنے کی اجازت
عہدیدار نے مزید بتایا کہ امریکہ مستقبل کے جامع معاہدے کے تحت ایران کو اپنی انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ایرانی سرزمین پر ہی تحلیل کرنے کی اجازت دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم افزودگی کی سرگرمیوں اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے نمٹنے کے طریقہ کار سے متعلق اہم امور پر یادداشت پر دستخط کے بعد 60 دن کی مدت کے دوران مذاکرات کیے جائیں گے اور انہیں حتمی معاہدے میں شامل کیا جائے گا۔
