فوجی کمیٹی کا اعلان
عراقی فوجی کمیٹی نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی قیادت میں بننے والے بین الاقوامی اتحاد کے فوجی دستے اور مشیر ملک کے وفاقی علاقوں سے مکمل طور پر انخلا کر چکے ہیں۔ یہ انخلا خود مختار کردستان ریجن کے علاوہ تمام وفاقی علاقوں سے مکمل ہو گیا ہے۔
بنیادی فوجی اڈوں کا کنٹرول
فوجی کمیٹی کے بیان کے مطابق، “آج ہم اعلان کرتے ہیں کہ عراق کے سرکاری وفاقی علاقوں میں امریکی قیادت والے اتحاد کے تمام فوجی اڈوں اور مشیروں کے ہیڈکوارٹرز کا انخلا مکمل ہو چکا ہے۔” کمیٹی نے واضح کیا کہ ان تمام مقامات پر اب عراقی سیکیورٹی فورسز کا مکمل کنٹرول قائم ہو گیا ہے۔
نئے دور میں داخلہ
کمیٹی نے مزید کہا کہ اب عراق اور امریکہ کے درمیان تعلقات “سیکیورٹی کے دوطرفہ تعلقات کے مرحلے” میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ تبدیلی 2024 میں ہونے والے معاہدے کے تحت آئی ہے جس میں 2025 کے آخر تک عراق اور ستمبر 2026 تک کردستان ریجن میں اتحادی مشن کے خاتمے کی بات کی گئی تھی۔
داعش کے خلاف جدوجہد کا سفر
امریکی اور اتحادی فوجیں 2014 سے عراق اور شام میں داعش کے خلاف کارروائیوں کے لیے تعینات تھیں، جب اس دہشتگرد گروپ نے دونوں ممالک کے بڑے حصوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ داعش کو عراق میں 2017 اور شام میں 2019 میں علاقائی طور پر شکست دے دی گئی تھی، لیکن یہ گروپ اب بھی خفیہ خلیوں کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
کردستان میں موجودگی برقرار
فوجی کمیٹی نے تصدیق کی ہے کہ اربیل میں واقع ایک ایئر بیس پر اتحادی فورسز کی موجودگی برقرار رہے گی، جو شام میں جاری آپریشنز کو سرحد پار سے لاجسٹک سپورٹ فراہم کرے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ کردستان خود مختار ریجن میں اتحادی مشیروں کی موجودگی جاری رہے گی۔
حالیہ صورتحال
عراق میں داعش کے حملوں میں گزشتہ سالوں کے دوران نمایاں کمی آئی ہے، لیکن گروپ ملک کے پہاڑی علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی ایک رپورٹ کے مطابق، داعش شامی سرحد کے ساتھ ساتھ اپنے نیٹ ورکس کی تعمیر نو اور بادیہ کے علاقے میں اپنی صلاحیتیں بحال کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
