geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
March 7, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    • A new geopolitical chessboardچین کے عروج سے بدلتی عالمی طاقت کی کشمکش
    صحت و تندرستی
    • Deep Sleep May Shield Brain from Alzheimer's, Study Findsگہری نیند: الزائمر کے خلاف دماغی ڈھال کا نیا سائنسی انکشاف
    • Two New Mpox Cases Detected on Réunion Islandری یونین میں مپاکس کے دو نئے کیسز رپورٹ، احتیاطی ویکسینیشن مہم کا آغاز
    • The 'Desk Shrimp' Posture Is Wrecking Your Healthدفتری کام کرتے ہوئے ‘جھینگے’ کی طرح جھکنا آپ کی صحت کے لیے تباہ کن
    دلچسپ اور عجیب
    • Smart Glasses Raise Privacy Concerns: How to Protect Yourselfدیکھنے میں عام مگر خطرناک: اسمارٹ عینکیں اور آپ کی رازداری کا بحران
    • Pakistan Considers Covid-Style Remote Work to Save Energyحکومت توانائی بچانے کے لیے کورونا طرز کے دور دراز کام اور آن لائن کلاسز پر غور کر رہی ہے
    • Pakistan to Witness 'Blood Moon' in Total Lunar Eclipse Todayآج پاکستان کے آسمان پر ‘خون کے چاند’ کا نظارہ، مکمل چاند گرہن واقع ہوگا
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Smart Glasses Raise Privacy Concerns: How to Protect Yourselfدیکھنے میں عام مگر خطرناک: اسمارٹ عینکیں اور آپ کی رازداری کا بحران
    • Pakistan to Witness 'Blood Moon' in Total Lunar Eclipse Todayآج پاکستان کے آسمان پر ‘خون کے چاند’ کا نظارہ، مکمل چاند گرہن واقع ہوگا
    • Google Launches Nano Banana 2, Boosting AI Image Generationگوگل کا نیا آئی آرٹسٹ: ’نینو بینانا 2‘ نے جیمنی میں تصویر سازی انقلاب برپا کردیا
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

کشمیر: مسلسل لاک ڈاؤن، عوامی غصے اور علیحدگی پسندانہ سوچ میں اضافہ

September 11, 2019 0 1 min read
Kashmir Lockdown
Share this:

Kashmir Lockdown

کشمیر (اصل میڈیا ڈیسک) نئی دہلی میں مودی حکومت کے بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے متعلق پانچ اگست کے فیصلے کے بعد سے سکیورٹی لاک ڈاؤن ہنوز جاری ہے، عوامی غم و غصہ مسلسل زیادہ ہوتا جا رہا ہے اور خطے میں علیحدگی پسندانہ رجحانات بڑھتے جا رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ کے اوائل میں مودی حکومت نے نئی دہلی کے زیر انتظام جموں کشمیر کو دو علاقوں میں تقسیم کر کے انہیں بھارت کے یونین علاقے بنا دینے کا جو فیصلہ کیا، اس نے اس منقسم ریاست کے شہریوں کی بہت بڑی اکثریت کو شدید دھچکے کا شکار کر دیا تھا۔

جب سے مودی حکومت نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کا فیصلہ کیا ہے، تب سے وہاں غیر معمولی لیکن مسلسل سکیورٹی لاک ڈاؤن جاری ہے اور کسی بھی قسم کے عوامی احتجاج اور مظاہروں کو روکنے کے لیے بھارتی حکومت نے وہاں ٹیلی مواصلات کا پورا نظام بھی معطل کر رکھا ہے۔ پانچ اگست کے فیصلے سے پہلے ہی وہاں ہزاروں کی تعداد میں جو اضافی بھارتی سکیورٹی دستے تعینات کر دیے گئے تھے، ان کی موجودگی اور کبھی کبھی کے استثنیٰ کے ساتھ مسلسل جاری رہنے والے کرفیو کے باعث یہ خطہ، جو پہلے ہی دنیا کے سب سے زیادہ عسکری موجودگی والے خطوں میں شمار ہوتا ہے، کئی ہفتوں سے اضافی مسائل کا شکار ہو چکا ہے۔

اس بارے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے جنوب میں کریم آباد نامی ایک گاؤں کے 55 سالہ رہائشی محمد امین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”اس طرح کا سکیورٹی لاک ڈاؤن تو میں نے اپنی پوری زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ایسا تو 1990ء کی دہائی کے اوائل میں بھی نظر نہیں آیا تھا، جب کشمیری عسکریت پسند علاقے میں سرعام گھومتے پھرتے تھے۔ اب عسکریت پسندی تو تقریباﹰ کہیں نظر نہیں آتی، لیکن بھارتی مسلح دستے سڑکوں پر اور گلیوں میں ہر جگہ بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔‘‘

نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر میں ٹیلی کمیونیکیشن بلیک آؤٹ کو آج ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ یہ بات اب تک واضح نہیں کہ یہ کب ختم ہو گا۔ بھارتی سول اور عسکری اہلکار اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے کتراتے ہیں۔ یوں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون رابطے نہ ہونے کے باعث کشمیر کے عوام باقی ماندہ دنیا سے مسلسل کٹے ہوئے ہیں۔

محمد امین نے کشمیری عوام کی مشکلات اور ان کی نقل و حرکت پر عائد کڑی پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ”ہم نہیں جانتے کہ بھارتی حکومت آخر چاہتی کیا ہے؟ لیکن یہ بات واضح ہے کہ حکومت یہ بالکل نہیں چاہتی کہ بیرونی دنیا کو اس کی کوئی خبر ہو کہ کشمیر میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔‘‘

کشمیر میں کرفیو، سکیورٹی لاک ڈاؤن اور ٹیلی مواصلاتی بلیک آؤٹ کشمیری باشندوں کے لیے کس طرح کی تکلیف دہ صورت حال کی وجہ بن چکے ہیں، اس بارے میں راول پورہ کی رہنے والی کشیمری خاتون منورہ بیگم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”مجھے اپنے بچے کو علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا تھا۔ لیکن تمام نجی کلینک بند تھے۔ ہم ہسپتال گئے تو وہاں ایمرجنسی وارڈ کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ ہماری باری آنے تک کئی گھنٹے لگ جاتے، ہم ایک دوا فروش کی دکان پر گئے اور بچے کی دوائی لے کر واپس لوٹ گئے۔‘‘

کشمیر کی موجودی صورت حال کے بارے میں کل پیر نو ستمبر کے روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر میشل باچیلٹ نے بھی جنیوا میں انسانی حقوق کی عالمی کونسل کے اجلاس سے اپنے افتتاحی خطاب میں کھل کر کہا، ”مجھے اس بات پر گہری تشویش ہے کہ بھارتی حکومت کے کشمیر میں کیے جانے والے حالیہ اقدامات کے کشمیری عوام کے انسانی حقوق پر کس طرح کے شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔‘‘

بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ کشمیر میں حالات بہتر ہو کر معمول کی طرف آتے جا رہے ہیں۔ لیکن کشمیر کے 60 سالہ شہری محمد شعبان تنبیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، ”یہ شدید جبر خطے میں بھارت کے خلاف مزید نفرت کی وجہ بنے گا اور مسلح بغاوت کو ہوا دے گا۔ نئی دہلی حکومت نے اب تک کشمیر میں جو اقدامات کیے ہیں، ان سے کشمیری عوام میں پائے جانے والے غم و غصے اور علیحدگی پسندانہ سوچ میں پہلے ہی اضافہ دیکھنے میں آ چکا ہے۔‘‘

جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے رہائشی محمد شعبان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”انہوں (بھارت) نے عوام کی آواز کچل دی ہے اور ہم اپنی ناپسندیدگی کا اظہار بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت ایسا کب تک کر سکے گا؟ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایسے جبر کے ہمیشہ منفی اور جابروں کے لیے نقصان دہ نتائج ہی نکلے ہیں۔‘‘

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

محمد شعبان نے اپنے موقف کے حق میں دلیل دیتے ہوئے کہا، ”کشمیر میں تین عشروں سے جاری مسلح تحریک حالیہ برسوں میں دوبارہ اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ اب اسے عام شہریوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ایسے میں بھارتی حکومت کے کشمیر میں حالیہ اقدامات، سکیورٹی لاک ڈاؤن، کرفیو اور ٹیلی مواصلاتی رابطوں کا مسلسل منقطع رہنا صرف بھارت کے خلاف مزید نفرت کی وجہ ہی بن سکتے ہیں۔‘‘

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شوپیاں کا ضلع وہ علاقہ ہے جہاں کشمیری عسکریت پسندوں کے ایک نوجوان کمانڈر برہان وانی کی بھارتی دستوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاکت کے بعد 2016ء میں مسلح احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ اس خونریز احتجاج کے دوران وہاں دو درجن کے قریب کشمیری عسکریت پسند مارے بھی گئے تھے۔ شوپیاں ضلع ہی کے ایک گاؤں کی رہنے والی 55 سالہ کشمیری خاتون جاناں بیگم نے کہا، ”اب ہر کوئی آزادی چاہتا ہے۔ بھارتی حکومت نے اپنے حالیہ اقدامات بالکل یکدم کیے۔ ہم شدید دھچکے کی کیفیت میں تھے۔‘‘

جاناں بیگم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ہم اس حد تک دھچکے اور صدمے کا شکار تھے کہ ہم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ اپنا ردعمل کیسے ظاہر کریں۔ بھارتی حکام کہتے ہیں کہ کشمیر میں کوئی احتجاجی مظاہرے نہیں ہو رہے۔ لیکن یہاں تو کرفیو ہے۔ وہ ایک بار عوام کو احتجاج کا حق دیں تو سہی، پھر وہ دیکھ سکیں گے کہ کشمیری عوام کتنی شدت سے کیا محسوس کر رہے ہیں۔‘‘

Share this:
Imran Khan
Previous Post وزیراعظم کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے مظفر آباد میں جلسے کا اعلان
Next Post ایک ماہ میں تیسری واردات، چوروں نے پی پی رہنما تاج حیدر کے گھر کا صفایا کر دیا
Taj Haider

Related Posts

Model's Street Photo Shoot Halted by Police During Paris Fashion Week

فیشن ویک کے دوران ماڈل کی پولیس کے ساتھ ’وائرل‘ گفتگو، ’کیا یہ تمہاری ماں کی سڑک ہے؟‘

March 7, 2026
France's Eurovision Entry Monroe Unveils "Regarde!" Song and Video

یوروویژن 2025: فرانس کی نمائندہ مونرو نے اپنا گانا ’ردگارڈے!‘ جاری کر دیا

March 7, 2026
Ukraine to Deploy Troops to Middle East, Aiding US Against Iranian Drones

امریکی درخواست پر یوکرین ایران کے ڈرونز سے نمٹنے کے لیے مشرق وسطیٰ میں فوج بھیجے گا

March 7, 2026
Macron's Military Moves Spark French "Co-Belligerence" Debate

ایران اور مشرق وسطیٰ کے تناؤ کے درمیان فرانس کی فوجی کارروائیاں ‘ہم جنگجو’ ہونے کے تنازعے کو جنم دے رہی ہیں

March 7, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.