geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
October 15, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Drought and Heatwaves Halve Ardèche Chestnut Harvest as Europe Braces for Price Risesخشک سالی اور گرمی کی لہروں نے فرانس میں شاہ بلوط کی فصل کو تباہ کر دیا
    • Portuguese Teens Drink and Use Drugs Less, but Risky Behaviour Concentrates Among the Vulnerableپرتگالی نوجوانوں میں شراب نوشی اور منشیات کا رجحان کم، مگر خطرات کمزور طبقوں میں مرکوز
    • Do Autumn Supplements Really Deliver on Their Immunity Promises?خزاں کے موسم میں وٹامنز اور سپلیمنٹس: کیا یہ واقعی ضروری ہیں؟
    صحت و تندرستی
    • Salt Stomping: TikTok's Viral Sleep Hack That Experts Say Doesn't Workسالٹ اسٹامپنگ: کیا نمک پر چلنا واقعی نیند کو بہتر بناتا ہے؟
    • After Losing Her Newborn Son, She Nearly Lost Her Marriage Too — Now She's Breaking the Silenceپیرینیٹل سوگ: ایک ماں کی درد بھری کہانی جو امید کی روشنی تک پہنچی
    • Portuguese Teens Drink and Use Drugs Less, but Risky Behaviour Concentrates Among the Vulnerableپرتگالی نوجوانوں میں شراب نوشی اور منشیات کا رجحان کم، مگر خطرات کمزور طبقوں میں مرکوز
    دلچسپ اور عجیب
    • Drought and Heatwaves Halve Ardèche Chestnut Harvest as Europe Braces for Price Risesخشک سالی اور گرمی کی لہروں نے فرانس میں شاہ بلوط کی فصل کو تباہ کر دیا
    • Salt Stomping: TikTok's Viral Sleep Hack That Experts Say Doesn't Workسالٹ اسٹامپنگ: کیا نمک پر چلنا واقعی نیند کو بہتر بناتا ہے؟
    • Barbershops and Nature: Europe's New Frontline in Men's Mental Healthیورپ میں مردوں کی ذہنی صحت: حجام کی دکان سے جنگل تک، کمیونٹی کی نئی کوششیں
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Ukraine's Drone Campaign Against Russian Data Centers Rattles Kremlin's Digital Infrastructureیوکرین کے ڈرون حملے: روسی ڈیٹا سینٹرز پر نئی جنگ کا محاذ
    • Sophie Adenot Returns to Earth After Record-Breaking 235 Days in Spaceسوفی ایڈینو کا ریکارڈ مشن: 235 دن بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر گزارنے کے بعد واپسی کا سفر شروع
    • French PM's Phone Number Leaked in Cyberattack on Underwear Brandفرانس کے وزیراعظم کا ذاتی ڈیٹا انڈرویئر برانڈ ہیکنگ کے باعث لیک
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

کشمیر: مسلسل لاک ڈاؤن، عوامی غصے اور علیحدگی پسندانہ سوچ میں اضافہ

September 11, 2019 1 1 min read
Kashmir Lockdown
Share this:

Kashmir Lockdown

کشمیر (اصل میڈیا ڈیسک) نئی دہلی میں مودی حکومت کے بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے متعلق پانچ اگست کے فیصلے کے بعد سے سکیورٹی لاک ڈاؤن ہنوز جاری ہے، عوامی غم و غصہ مسلسل زیادہ ہوتا جا رہا ہے اور خطے میں علیحدگی پسندانہ رجحانات بڑھتے جا رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ کے اوائل میں مودی حکومت نے نئی دہلی کے زیر انتظام جموں کشمیر کو دو علاقوں میں تقسیم کر کے انہیں بھارت کے یونین علاقے بنا دینے کا جو فیصلہ کیا، اس نے اس منقسم ریاست کے شہریوں کی بہت بڑی اکثریت کو شدید دھچکے کا شکار کر دیا تھا۔

جب سے مودی حکومت نے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کا فیصلہ کیا ہے، تب سے وہاں غیر معمولی لیکن مسلسل سکیورٹی لاک ڈاؤن جاری ہے اور کسی بھی قسم کے عوامی احتجاج اور مظاہروں کو روکنے کے لیے بھارتی حکومت نے وہاں ٹیلی مواصلات کا پورا نظام بھی معطل کر رکھا ہے۔ پانچ اگست کے فیصلے سے پہلے ہی وہاں ہزاروں کی تعداد میں جو اضافی بھارتی سکیورٹی دستے تعینات کر دیے گئے تھے، ان کی موجودگی اور کبھی کبھی کے استثنیٰ کے ساتھ مسلسل جاری رہنے والے کرفیو کے باعث یہ خطہ، جو پہلے ہی دنیا کے سب سے زیادہ عسکری موجودگی والے خطوں میں شمار ہوتا ہے، کئی ہفتوں سے اضافی مسائل کا شکار ہو چکا ہے۔

اس بارے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے جنوب میں کریم آباد نامی ایک گاؤں کے 55 سالہ رہائشی محمد امین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”اس طرح کا سکیورٹی لاک ڈاؤن تو میں نے اپنی پوری زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ایسا تو 1990ء کی دہائی کے اوائل میں بھی نظر نہیں آیا تھا، جب کشمیری عسکریت پسند علاقے میں سرعام گھومتے پھرتے تھے۔ اب عسکریت پسندی تو تقریباﹰ کہیں نظر نہیں آتی، لیکن بھارتی مسلح دستے سڑکوں پر اور گلیوں میں ہر جگہ بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں۔‘‘

نئی دہلی کے زیر انتظام کشمیر میں ٹیلی کمیونیکیشن بلیک آؤٹ کو آج ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ یہ بات اب تک واضح نہیں کہ یہ کب ختم ہو گا۔ بھارتی سول اور عسکری اہلکار اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے کتراتے ہیں۔ یوں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون رابطے نہ ہونے کے باعث کشمیر کے عوام باقی ماندہ دنیا سے مسلسل کٹے ہوئے ہیں۔

محمد امین نے کشمیری عوام کی مشکلات اور ان کی نقل و حرکت پر عائد کڑی پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ”ہم نہیں جانتے کہ بھارتی حکومت آخر چاہتی کیا ہے؟ لیکن یہ بات واضح ہے کہ حکومت یہ بالکل نہیں چاہتی کہ بیرونی دنیا کو اس کی کوئی خبر ہو کہ کشمیر میں کیا کچھ ہو رہا ہے۔‘‘

کشمیر میں کرفیو، سکیورٹی لاک ڈاؤن اور ٹیلی مواصلاتی بلیک آؤٹ کشمیری باشندوں کے لیے کس طرح کی تکلیف دہ صورت حال کی وجہ بن چکے ہیں، اس بارے میں راول پورہ کی رہنے والی کشیمری خاتون منورہ بیگم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”مجھے اپنے بچے کو علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا تھا۔ لیکن تمام نجی کلینک بند تھے۔ ہم ہسپتال گئے تو وہاں ایمرجنسی وارڈ کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ ہماری باری آنے تک کئی گھنٹے لگ جاتے، ہم ایک دوا فروش کی دکان پر گئے اور بچے کی دوائی لے کر واپس لوٹ گئے۔‘‘

کشمیر کی موجودی صورت حال کے بارے میں کل پیر نو ستمبر کے روز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر میشل باچیلٹ نے بھی جنیوا میں انسانی حقوق کی عالمی کونسل کے اجلاس سے اپنے افتتاحی خطاب میں کھل کر کہا، ”مجھے اس بات پر گہری تشویش ہے کہ بھارتی حکومت کے کشمیر میں کیے جانے والے حالیہ اقدامات کے کشمیری عوام کے انسانی حقوق پر کس طرح کے شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔‘‘

بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ کشمیر میں حالات بہتر ہو کر معمول کی طرف آتے جا رہے ہیں۔ لیکن کشمیر کے 60 سالہ شہری محمد شعبان تنبیہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، ”یہ شدید جبر خطے میں بھارت کے خلاف مزید نفرت کی وجہ بنے گا اور مسلح بغاوت کو ہوا دے گا۔ نئی دہلی حکومت نے اب تک کشمیر میں جو اقدامات کیے ہیں، ان سے کشمیری عوام میں پائے جانے والے غم و غصے اور علیحدگی پسندانہ سوچ میں پہلے ہی اضافہ دیکھنے میں آ چکا ہے۔‘‘

جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے رہائشی محمد شعبان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”انہوں (بھارت) نے عوام کی آواز کچل دی ہے اور ہم اپنی ناپسندیدگی کا اظہار بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت ایسا کب تک کر سکے گا؟ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایسے جبر کے ہمیشہ منفی اور جابروں کے لیے نقصان دہ نتائج ہی نکلے ہیں۔‘‘

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

محمد شعبان نے اپنے موقف کے حق میں دلیل دیتے ہوئے کہا، ”کشمیر میں تین عشروں سے جاری مسلح تحریک حالیہ برسوں میں دوبارہ اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ اب اسے عام شہریوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ایسے میں بھارتی حکومت کے کشمیر میں حالیہ اقدامات، سکیورٹی لاک ڈاؤن، کرفیو اور ٹیلی مواصلاتی رابطوں کا مسلسل منقطع رہنا صرف بھارت کے خلاف مزید نفرت کی وجہ ہی بن سکتے ہیں۔‘‘

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شوپیاں کا ضلع وہ علاقہ ہے جہاں کشمیری عسکریت پسندوں کے ایک نوجوان کمانڈر برہان وانی کی بھارتی دستوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاکت کے بعد 2016ء میں مسلح احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ اس خونریز احتجاج کے دوران وہاں دو درجن کے قریب کشمیری عسکریت پسند مارے بھی گئے تھے۔ شوپیاں ضلع ہی کے ایک گاؤں کی رہنے والی 55 سالہ کشمیری خاتون جاناں بیگم نے کہا، ”اب ہر کوئی آزادی چاہتا ہے۔ بھارتی حکومت نے اپنے حالیہ اقدامات بالکل یکدم کیے۔ ہم شدید دھچکے کی کیفیت میں تھے۔‘‘

جاناں بیگم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ہم اس حد تک دھچکے اور صدمے کا شکار تھے کہ ہم یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ اپنا ردعمل کیسے ظاہر کریں۔ بھارتی حکام کہتے ہیں کہ کشمیر میں کوئی احتجاجی مظاہرے نہیں ہو رہے۔ لیکن یہاں تو کرفیو ہے۔ وہ ایک بار عوام کو احتجاج کا حق دیں تو سہی، پھر وہ دیکھ سکیں گے کہ کشمیری عوام کتنی شدت سے کیا محسوس کر رہے ہیں۔‘‘

Share this:
Imran Khan
Previous Post وزیراعظم کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے مظفر آباد میں جلسے کا اعلان
Next Post ایک ماہ میں تیسری واردات، چوروں نے پی پی رہنما تاج حیدر کے گھر کا صفایا کر دیا
Taj Haider

Related Posts

US Weighs MOAB Strike on Iran, CNN Reports

امریکہ ایران پر ’ماں بم‘ گرانے کا امکان، سی این این کی رپورٹ

October 15, 2026
Drought and Heatwaves Halve Ardèche Chestnut Harvest as Europe Braces for Price Rises

خشک سالی اور گرمی کی لہروں نے فرانس میں شاہ بلوط کی فصل کو تباہ کر دیا

October 15, 2026
Le Pen Demands Ferrand's Resignation — After Her Party Helped Install Him

لی پین کا فرینڈ کو مستعفی ہونے کا مطالبہ، جنہیں انہی کی جماعت نے آئینی کونسل میں پہنچایا تھا

October 15, 2026
Retailleau's Reluctant U-Turn on Aubagne Shooting Misinformation

Retailleau کی جھوٹی خبر پر یو ٹرن: LFI پر الزام، پھر خود ہی اعتراف

October 15, 2026

Popular Posts

1 Vladimir Putin

امریکی میزائل تجربے کا جواب دیا جائے، پوٹن کی ہدایات

2 Imad Wasim

قومی کرکٹر عماد وسیم بھی رشتہ ازدواج میں منسلک

3 Meeting

انجینئر افتخار چودھری نے ریاٹرڈ جرنیل ڈاکٹر محمد مصطفی الجہنی سے ملاقات کی

4 Shah Mahmood Qureshi - António Guterres

شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے درمیان رابطہ طے پا گیا

5 Khamisani Socail Welfare Trust

محمد سلیم خمیسانی کا سیفی ویلفیئر سوسائٹی کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد

6 Indian Army in Kashmir

کرفیو اور لاک ڈاؤن کے باوجود ہزاروں کشمیریوں کا بھارت کیخلاف مظاہرہ

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.