ایک روز بعد دوسرا دھچکا، عالمی بحران نے گھریلو بجٹ پر کاری ضرب لگا دی
حکومت پاکستان نے مٹی کے تیل کی قیمت میں تاریخی اضافہ کرتے ہوئے فی لیٹر 130 روپے 8 پیسے کا ہلڑ مچا دیا ہے۔ وزارت پٹرولیم کے نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کا تیل 188 روپے 73 پیسے سے بڑھ کر 318 روپے 81 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ یہ اضافہ ہفتے کی صبح سے نافذ العمل ہے۔
پٹرول اور ڈیزل میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد تیسری بڑی مار
یہ تیسرا بڑا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ روز حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا۔ پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس میں نئی قیمتیں جاری کیں۔
- پٹرول کی نئی قیمت: 321 روپے 17 پیسے فی لیٹر (266 روپے 17 پیسے سے اضافہ)
- ڈیزل کی نئی قیمت: 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر (280 روپے 86 پیسے سے اضافہ)
ہفتہ وار جائزے کا نیا نظام، ہرمز آبنائے بند ہونے کے بعد پہلا فیصلہ
یہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا پہلا ہفتہ وار جائزہ تھا، جس سے قبل حکومت پندرہ روزہ بنیادوں پر قیمتیں ایڈجسٹ کرتی تھی۔ ہرمز آبنائے کی بندش کے بعد عالمی توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں نے اس فیصلے کو جنم دیا ہے۔
پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں بھی تبدیلی
حکومت نے پٹرول پر پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) 84 روپے 40 پیسے سے بڑھا کر 105 روپے فی لیٹر کر دی ہے۔ تاہم ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پی ڈی ایل 76 روپے 21 پیسے سے کم کر کے 55 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔
امریکہ-اسرائیل اور ایران کی جنگ نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور تہران کی جوابی کارروائیوں نے عالمی توانائی اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو مفلوج کر دیا ہے۔ ہرمز آبنائے میں سرگرمیاں عملاً معطل ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کے بیان کے بعد خام تیل کی قیمت میں جمعے کے روز 8.5 فیصد اور ہفتے بھر میں 30 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
عوامی زندگی پر اثرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں یہ تاریخی اضافہ روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور گھریلو بجٹ پر تباہ کن اثرات مرتب کرے گا۔ دیہی علاقوں میں مٹی کے تیل پر انحصار کرنے والے خاندان سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
