خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تیز ہواؤں، آسمانی بجلی اور موسلادھار بارش نے قیامت ڈھا دی۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق ان حادثات میں کم از کم سات افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 33 زخمی ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں دو بچے، چار مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔
بنوں، شانگلہ اور مانسہرہ میں دلخراش واقعات
یہ المناک واقعات صوبے کے تین اضلاع بنوں، شانگلہ اور مانسہرہ میں پیش آئے۔ پی ڈی ایم اے کی جاری کردہ نقصانات کی رپورٹ کے مطابق، زیادہ تر ہلاکتیں تیز آندھی اور بارش کے باعث مکانوں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے ہوئیں۔ یہ تازہ اموات اس ماہ کے شروع میں ہونے والے ایسے ہی واقعات کے چند روز بعد سامنے آئی ہیں، جب دو افراد ہلاک اور 31 زخمی ہوئے تھے۔
محکمہ موسمیات کی نئی وارننگ
دوسری طرف پاکستان کے محکمہ موسمیات نے اتوار کے روز بالائی خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں کئی مقامات پر مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ محکمے کا کہنا ہے کہ ملک کے بیشتر دیگر حصوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے کا الرٹ اور انتظامیہ کو ہدایات
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ہفتے کے روز سوات، اپر دیر، کوہستان، بونیر اور دیگر اضلاع کے لیے موسم کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کیا تھا۔ اتھارٹی نے متنبہ کیا ہے کہ 15 جون کے بعد بڑھتا ہوا درجہ حرارت برف پگھلنے اور ممکنہ سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ حساس علاقوں میں الرٹ جاری رکھیں اور سیاحوں اور مسافروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیں۔ عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ شدید بارش کے دوران دریاؤں، ندی نالوں اور بارشی علاقوں سے دور رہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
