یوکرین کی مشرقی سرحد پر واقع اہم شہر کراماتورسک میں جمعرات کے روز روسی فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوگئے، جب ایک گلائیڈ بم نے دو مسافر بسوں اور ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا۔ یہ گزشتہ کئی ہفتوں میں روس کی جانب سے کی جانے والی مہلک ترین کارروائیوں میں سے ایک ہے۔
ہلاکتوں کا سلسلہ جاری
یوکرینی حکام کے مطابق، دھماکے صبح کے وقت اس وقت ہوئے جب ایک روسی گلائیڈ بم کراماتورسک کی ایک سڑک پر سروس میں مصروف دو بسوں اور ایک رہائشی عمارت سے ٹکرا گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق 18 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، تاہم حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے کیونکہ ملبے تلے مزید لاشوں کے ملنے کا امکان ہے۔
اسی روز کراماتورسک کے قریب واقع گاؤں بیلینکے میں بھی روسی بمباری کے نتیجے میں تین افراد جان سے گئے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلینسکی نے اس حملے کو “بے جواب نہ چھوڑنے” کا عزم ظاہر کرتے ہوئے روس پر الزام لگایا کہ وہ ڈونباس کے علاقے میں “ہر قسم کی زندگی کو تباہ کرنے” کی کوشش کر رہا ہے۔ ڈونباس یوکرین کے مشرق میں واقع ایک بڑا معدنیاتی علاقہ ہے جس پر ماسکو نے الحاق کا دعویٰ تو کیا ہے لیکن مکمل کنٹرول حاصل نہیں کر سکا۔
اقوام متحدہ کی مذمت
اقوام متحدہ نے جمعرات کو ان حملوں کو “ہولناک” قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔ یاد رہے کہ بدھ کے روز بھی یوکرین کے مختلف شہروں پر روسی حملوں میں 30 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں شمالی شہر پرائلوکی کی ایک رہائشی عمارت میں میزائل حملے سے 22 شہری جان سے گئے تھے۔
کیف میں “بقا کی جنگ”
کیف کے میئر ویتالی کلیچکو نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ہر دن تباہ شدہ عمارتوں، زخمیوں اور المناک طور پر ہلاک ہونے والوں کی نئی اطلاعات سامنے آتی ہیں۔ آج سوال بقا کا ہے۔”
روس نے حالیہ ہفتوں میں کیف کے اہم پلوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، جس سے موسم سرما کی آمد سے قبل یوکرینی دارالحکومت شدید مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔ ستمبر میں روسی حملوں نے توانائی کے نظام کو نقصان پہنچایا جو گزشتہ موسم سرما میں پہلے ہی بری طرح متاثر ہو چکا تھا۔ تازہ حملوں کے باعث پانی اور بجلی کی فراہمی میں خلل پیدا ہوا ہے۔
کلیچکو نے خبردار کیا کہ “پانی کی تقسیم کے حوالے سے بحران کافی وسیع ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے، بعض علاقوں میں عارضی بجلی کی بندش پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔”
امریکی وزیر خارجہ کی تنبیہ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو خبردار کیا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ایک “انتہائی خطرناک تعطل” میں ہے کیونکہ دونوں فریق اس سے نکلنے کے لیے کشیدگی بڑھانے کا خطرہ مول لے سکتے ہیں۔ پرتگال میں اپنے یورپی دورے کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ “دونوں میں سے ایک فریق یا دونوں، مخالف کو توڑنے کے لیے اپنی کارروائیاں تیز کر سکتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ یہ تعطل یا تو “مذاکراتی حل” کی طرف لے جا سکتا ہے جس میں امن کے لیے دونوں فریقوں کو کچھ نہ کچھ چھوڑنا پڑے گا، یا پھر “کشیدگی میں اضافے” کا باعث بن سکتا ہے۔
روبیو نے مزید کہا کہ “یہ بہت خطرناک ہے کیونکہ یہ کشیدگی بالآخر نیٹو کے رکن پڑوسی ممالک میں تخریب کاری کی مہم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ یہ کئی دیگر صورتوں میں بھی ڈھل سکتی ہے جو آج کی دو ملکوں کی جنگ کو بہت جلد ایک بہت بڑے اور بے حد خطرناک علاقائی تنازعے میں تبدیل کر سکتی ہیں۔”
یاندیکس پر ڈرون حملہ
دریں اثنا، یوکرینی ڈرون حملوں میں روس کے سب سے بڑے ٹیکنالوجی ادارے یاندیکس کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق دو یوکرینی ڈرونوں نے اس مرکز کو ناکارہ بنا دیا، جسے “روسی گوگل” بھی کہا جاتا ہے۔
جنگ کا 1,688 واں دن
یہ جنگ اپنے 1,688 ویں دن میں داخل ہو چکی ہے اور اب تک کسی جامع حل کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔ یوکرین کے صدر زیلینسکی کے نمائندے جلد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم سے ملاقات کرنے والے ہیں، جہاں یہ سوال زیر بحث آئے گا کہ آیا رعایتیں دی جائیں یا کشیدگی بڑھائی جائے۔
دوسری جانب، یوکرین نے بحیرہ اسود میں دو بحری جہازوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں متعدد ملاح لاپتہ ہو گئے ہیں۔ یوکرین نے ماسکو پر بھی حملہ کیا اور شمالی کوریا کی مذمت کرتے ہوئے ڈرون دفاعی نظام کو مزید وسعت دی ہے۔
