لاہور میں پاکستانی-فرانسیسی فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں سول کورٹ میں وکلا کے ایک گروپ نے ان کے وکیل بھائی کی ایما پر زدوکوب کیا۔ محمود بھٹی نے لاہور ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس سے سوال اٹھایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ یہ سلوک کب تک جاری رہے گا؟
محمود بھٹی نے بتایا کہ وہ پیرس سے صرف عدالت میں حاضری کے لیے آئے اور اس پر 14 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ انہوں نے اپنے بھائی ایڈوکیٹ منیر بھٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف 23 مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔ بھٹی نے الزام لگایا کہ ان کے وکیل بھائی انہیں مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے تعلقات اتنے مضبوط ہیں کہ ان کے خلاف کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
فیشن ڈیزائنر محمود بھٹی اور ان کے بڑے بھائی منیر بھٹی کے درمیان جائیداد کا تنازعہ سول کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ محمود بھٹی کا کہنا ہے کہ زمین ایک یتیم خانہ کے لیے مختص کی گئی تھی مگر انہیں اس پر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ وہ گزشتہ چار سال سے پیرس سے لاہور آ کر عدالت میں حاضری دے رہے ہیں، مگر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
محمود بھٹی نے سینئر وکیل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور بتایا کہ پچھلے سماعت کے دوران تقریباً 30 وکلا نے ان پر حملہ کیا، مگر ان وکلا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
منیر بھٹی نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک اپیل دائر کی ہے جس میں جائیداد کے کیس میں گواہ پر جرح کا حق نہ ملنے پر اعتراض کیا گیا ہے۔ یہ درخواست جسٹس علی باقر نجفی کی عدالت میں دائر کی گئی تھی مگر سماعت بغیر کسی پیش رفت کے ملتوی کر دی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ پہلے ہی سول کورٹ میں زیر سماعت کیس کی کارروائی کو معطل کر چکی ہے۔
