لاہور – پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف نے ملک میں مزید سیاسی احتجاجات کی مخالفت کی ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ملک بھر میں مظاہروں کی تیاری کر رہی ہے۔ سابق وزیراعظم نے زور دیا کہ حکومت کسی بھی طویل مارچ یا پرتشدد احتجاج کو ملک کی ترقی میں رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دے گی۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ناکام مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی نے عید کے بعد احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نواز شریف نے سیاسی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جو جمہوری اصولوں سے نابلد ہیں اور ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ وہ لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر پارٹی سینیٹر عرفان صدیقی سے گفتگو کر رہے تھے۔
نواز شریف نے سیاسی استحکام کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کو ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے راستے سے بھٹکنے نہیں دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک 2013 کی ترقی کی رفتار کو جاری رکھتا تو آج اسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے مالی امداد طلب کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔
مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نے ان عناصر کے خلاف چوکسی کا بھی مطالبہ کیا جو ملک میں انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی ارکان کو عوام سے قریبی روابط رکھنے کی تاکید کی تاکہ کسی بھی انتشار پیدا کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے بھی اپنے والد کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے پی ٹی آئی پر اختلافات کی سیاست کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے بلاواسطہ عمران خان کو نشانہ بناتے ہوئے سوال کیا کہ ملک کی سیاست میں شدت پسندی اور بے حیائی کو کس نے متعارف کروایا۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی ترقیاتی پالیسیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ طلباء کو لیپ ٹاپ تقسیم کرنے جیسے اقدامات کیے گئے جبکہ تشدد کو فروغ نہیں دیا گیا۔
مریم نواز نے عوامی خدمت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے عہدے کو ذاتی فائدے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی بھلائی کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ان کے یہ بیانات پی ٹی آئی کی سیاسی چالوں کا مقابلہ کرنے اور ملک کی معاشی بحالی کی حکمت عملی کے حصے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
ملک میں جاری سیاسی کشیدگی پاکستان کی سیاسی منظرنامے میں ایک بڑے تقسیم کو اجاگر کرتی ہے، جہاں دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر ملک کی استحکام اور ترقی کو نقصان پہنچانے کا الزام لگاتی ہیں۔
