بوردو کے پراسیکیوٹر نے اعلان کیا ہے کہ برٹرینڈ کانتا کی جانب سے ان کی سابقہ اہلیہ کرسٹینا ریڈی پر ممکنہ جسمانی حملوں کے سلسلے میں تحقیقات دوبارہ شروع کی جائیں گی۔ کرسٹینا کو 2010 میں ان کے گھر میں مردہ پایا گیا تھا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب نیٹ فلکس پر “لی کیس کانتا” نامی ڈاکیومنٹری دیکھنے کے بعد نئے شواہد سامنے آئے۔
نیٹ فلکس پر جاری ہونے والی اس ڈاکیومنٹری نے عدالت کے سامنے کچھ نئے شواہد پیش کیے ہیں، جن میں ایسے بیانات شامل ہیں جو پہلے کسی بھی عدالتی کارروائی میں سامنے نہیں آئے تھے۔ ان شواہد نے کرسٹینا ریڈی کی موت کے معاملے کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے، جو پہلے تین بار بند ہو چکا تھا۔
ڈاکیومنٹری میں کرسٹینا کے دوستوں اور رشتہ داروں کے بیانات شامل ہیں، جن کے مطابق ان کی زندگی میں تشدد کا عنصر پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں تھا۔ یہ دستاویزی فلم نہ صرف برٹرینڈ کانتا کے ماضی کو اجاگر کرتی ہے بلکہ کرسٹینا ریڈی کی موت پر دوبارہ غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
فلم میں کرسٹینا ریڈی کی طرف سے لکھے گئے خطوط اور آڈیو ریکارڈنگز بھی شامل ہیں جن میں وہ خوف، ذلت اور نفسیاتی دباؤ کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ ایک نرس کا گمنام بیان بھی شامل ہے جو کہتا ہے کہ کرسٹینا ریڈی اپنے موت سے پہلے گھریلو تشدد کا شکار تھیں۔
یہ نئی تحقیقات برٹرینڈ کانتا کی شخصیت اور ان کے رویے پر سوالات اٹھاتی ہیں اور اس بات کی تحقیقات کریں گی کہ آیا ان کا رویہ کرسٹینا کی موت کی وجہ بنا تھا۔ ان شواہد کی روشنی میں بوردو کے پراسیکیوٹر ریناڈ گوڈیول نے امید ظاہر کی ہے کہ مزید گواہان سامنے آئیں گے، جس سے کیس میں مزید وضاحت آسکے گی۔
یہ معاملہ نفسیاتی تشدد کے مسئلے کو بھی اجاگر کرتا ہے، جو عام طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے، اور اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ عدلیہ نے اس مسئلے پر مناسب توجہ نہیں دی۔ ڈاکیومنٹری کے منظر عام پر آنے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ یہ کیس ایک نئے زاویے سے جانچ پڑتال کے قابل ہوگا۔

