اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 35 نئی ضروری اور جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کے تعین کی طویل التواء کو ختم کرتے ہوئے ان کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام سے ملک بھر میں مریضوں کی دیکھ بھال میں درپیش شدید قلت کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ وزارت صحت کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ مزید 45 ادویات کی قیمتوں کا تعین بھی جلد متوقع ہے۔
دو سال کی تاخیر کے بعد فیصلہ
ذرائع کے مطابق تقریباً 35 جان بچانے والی ادویات، جن میں کینسر کے جدید علاج، ویکسین اور بائیولوجیکل مصنوعات شامل ہیں، 2024 سے ملک میں دستیاب نہیں تھیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی طرف سے ان کے رجسٹریشن کے باوجود، حکومت نے تقریباً دو سال تک ان کی قیمتوں کے تعین میں تاخیر کی تھی۔
مریضوں کو مہنگی اور غیرقانونی ادویات کا سہارا
اس تاخیر کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سے مریضوں کو یا تو علاج کے بغیر رہنا پڑا یا پھر مہنگی اور اکثر غیرقانونی سمگل شدہ ادویات کا سہارا لینا پڑا، جو معیار، حفاظت اور افادیت کے حوالے سے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
وزیر صحت کی کاوش اور وزیراعظم کی ہدایت
ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس معاملے کو اعلیٰ سطح پر اٹھایا اور وزیراعظم شہباز شریف کو ضروری ادویات تک رسائی کی فوری ضرورت سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ قیمتوں کی منظوری میں تاخیر سے نہ صرف سپلائی چین متاثر ہو رہا ہے بلکہ ان مریضوں کی جانوں کو بھی خطرہ ہے جنہیں مسلسل علاج کی ضرورت ہے۔
متاثرہ ادویات میں کینسر، ہیموفیلیا اور ویکسین شامل
ڈریپ کے حکام کے مطابق ان ادویات میں کینسر کی ادویات، ٹرانسپلانٹ کی ادویات، قلبی علاج اور ٹائیفائیڈ، پولیو اور نمونیا جیسی ویکسین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ریکومبیننٹ ہیومن کواگولیشن فیکٹر VIII، ہیومن ریبیز امیونوگلوبلین اور سیمگلوٹائیڈ جیسی اہم مصنوعات بھی شامل تھیں۔
فارماسیوٹیکل انڈسٹری کا خیرمقدم
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے حکومت کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے ضروری ادویات کی شدید قلت کو دور کرنے کے لیے بروقت اقدام قرار دیا۔ ایسوسی ایشن نے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی کابینہ اور ڈریپ کی اس مسئلے کے حل کے لیے کاوشوں کو سراہا۔
صحت کے نظام کے لیے اہم موڑ
پی پی ایم اے نے کہا کہ یہ منظوری صحت کے نظام کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوگی۔ اس سے نہ صرف اہم علاج کی دستیابی بحال ہوگی بلکہ مریضوں کے علاج کے نتائج بہتر ہوں گے اور غیر محفوظ متبادل ادویات پر انحصار کم ہوگا۔ ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی کہ مقامی طور پر ادویات کی بہتر دستیابی سے برآمدات کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
