geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
September 20, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Fatbikes Gain Popularity in French Cities Amid Safety Concernsفیٹ بائیکس کا بڑھتا رجحان: سہولت، تنازعہ اور ضابطے کی ضرورت
    • France Revises Under-15 Social Media Ban for EUفرانس نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا نیا مسودہ یورپی یونین کو پیش کر دیا
    • Screens and Parenting: The Hidden Classroom Crisisاسکرینیں اور والدین: بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر پوشیدہ اثرات
    صحت و تندرستی
    • Why Runner's Diarrhea Strikes Athletes Mid-Raceدورانِ دوڑ میں پیٹ کی خرابی: وجوہات اور بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
    • Fatbikes Gain Popularity in French Cities Amid Safety Concernsفیٹ بائیکس کا بڑھتا رجحان: سہولت، تنازعہ اور ضابطے کی ضرورت
    • Pediatrician Sounds Alarm Over Tiger Mosquito Surge in Val-de-Marneٹائیگر مچھروں کی افزائش اور چکن گونیا کے مقامی کیسز پر ویلی-ڈی-مارن میں تشویش
    دلچسپ اور عجیب
    • When Your Child's Name Becomes Too Popularالمقبول ناموں کا بوجھ: جب والدین کو اپنے بچوں کے نام پر پچھتاوا ہوتا ہے
    • France Revises Under-15 Social Media Ban for EUفرانس نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا نیا مسودہ یورپی یونین کو پیش کر دیا
    • Paris Metro Roof Surfing Sparks Safety Outrageپیرس میں میٹرو کی چھت پر نوجوان کی خطرناک stunt، حکام کی سخت مذمت
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • AI Expert Warns Against Fear Marketing by Tech Giantsاے آئی کی “خوفناک مارکیٹنگ”: کیا بڑی ٹیک کمپنیاں جان بوجھ کر ڈرا رہی ہیں؟
    • NASA Probe Spots Massive New Moon Craterچاند کی سطح پر نیا دیوہیکل گڑھا دریافت، سائنسدان حیران
    • Zuckerberg Rejects Calls to Slow AI Developmentزکربرگ کا مصنوعی ذہانت کی ترقی کو سست کرنے سے انکار، ٹرمپ کے مؤقف کے قریب
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

پاکستان میں تعلیم برائے فروخت کیوں

July 20, 2020 0 1 min read
Education in Pakistan
Share this:

Education in Pakistan

تحریر : طاہر محمود

کسی ملک کی تعمیر و ترقی میں تعلیمی ادارے بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔چین ،جاپان، برطانیہ ،روس، جرمنی، اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی جامعات اور بنیادی تعلیمی ادارے اس بات کے مظہر ہیں کہ انہوں نے اعلیٰ تعلیمی معیار کے ساتھ اپنے اپنے ممالک کی خدمت کی ہے ۔اگر گریڈ نگ کی بات کی جائے تو یہی ممالک ساری دنیا پر چھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سائنس ،ٹیکنالوجی اور میڈیکل کے میدان میں منفرد معیار کو قائم کر کے بہت نام کمایا ہے۔بلکہ اب بھی کمارہے ہیں۔ابتدائی بنیادی تعلیم میں بھی ممالک ثانوی حیثیت کے حامل ہیں ہم پاکستانی ہیںکیوں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پیدا ہوئے ہیں ۔ ہمارے آقاء مولا حضرت محمد مصطفےۖۖۖۖۖ انبیا کے سردار ہیں۔معلم بن کراس دنیا میں تشریف لائے ہیں۔بے شک ہر علم قرآن مجید فرقان حمید میں موجود ہے ۔ہر مخفی علم کا خزانہ قرآن پاک ہے۔ قلم کے زریعے علم سکھانے والے رب نے ہمیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازہ ہوا ہے مگر آج ہم کیوں کھڑے ہیں؟کسی لیئے کھڑے ہیں ؟ ہم زندہ قوم ہیں اس لیئے کہ ہم اپنے اسلاف کی رویات ،خدمت اور کارناموں کو یکسر بھول چکے ہیں ساڑھے سات سو سال حکومت کرنے والوں کا شیرازہ آج بھی بکھرا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس لیئے کہ ہم زندہ قوم ہیں ۔کیا زندہ قومیں اپنے ماضی کو بھول جاتی ہیں ؟کیا بھول جانا اچھا ہے اگر ہمارے آباء واجد بھول جاتے تھے تو ہمیں ایسا کرنا چائیے اگر نہیں تو ہمیں اپنا راستہ اور تخیل بدلنا ہو گا۔

کیوں کہ اس یو ٹر ن میں ہماری تعلیمی نرسری کا فائدہ ہے اور یہ عمل مفاد عامہ کے لیئے ناگزیز ہے۔جہا ں بہتری کی بات ہو یوٹرن لینا کوئی گناہ ہے ۔ یوں تو سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی سہولیات کا فقدان ہے۔ مگر پرائیو ٹ تعلیمی ادارے اس میں بہت آگے بڑھ کر اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ۔پانچ مرلے اور دس مرلے کے سکولون کو جورات کو رہا ئش کے لیے استعمال ہو رہے ہیں ۔نہ جانے کسی اتھارتی نے ان کو رجسٹر یشن سے نوازا ہے ۔نہ لیٹرین نہ گارڈن نہ پلے گرائونڈ نہ لائبری نہ رجسٹر پورے ۔پتا نہیں یہ کس طرح یہ تعلیمی ادارے رجسٹریشن کروانے میں کامیاب ہوائے ہیں ۔ ہیڈ معلم کو پتہ تک نہیںکہ ایک مدرسے میں کتنے رجسٹر ہوتے ہیں ۔اور کس رجسٹر میں کیا لکھا جاتا ہے ۔میٹرک پاس ہیڈ معلم یا ٹیچر کو کیا پتا کہ تعلیم کیا ہے۔بچوں کی نفسیات کیا ہو تی ہے ۔اور کس طرح بچوں کو زیو ر تعلیم سے آرستہ کیا جائے ۔دو یا تین ہزار میں معلمہ کہلانے والے کو اس بات کی کوئی ضرورت بھی نہیں ۔ہم نے بالکل اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیلنا شروع کر رکھا ہے ۔والدین کی مجبوی کو وہ اپنے بچوں کو دور سکولوں میں نہیں بھیج سکتے کیوں کہ آج کے اس دہشت گردی کے دور میں کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔والدین پر خوف کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں اور تعلیم کے فروخت کا راس سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔بچے بھی ہمارے ہیں اور تعلیم کو کاروبار سمجھ کر کرنے والے بھی ہم ہی ہیں ۔

بیتے ہوائے لمحوںکی تصویر ہے آنکھو ںمیں

کھوئی ہوئی جنت کی دہلیز پہ بیٹھاہوں

کسی تعلیمی ادارے کو سکیورٹی کا کوئی علم نہیں ۔صرف یہی علم ہے کہ فیسوں کو کس طرح جمع کرنا ہے اور کون کون سے حیلے بہانے کر کے اپنے کاروبار کو فروغ دینا ہے ۔بالکل یہ لوگ تعلیم برائے فروخت کا لیبل لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔کیا تعلیم ایک کاروبار ہے ؟میرے خیال سے ایسے تعلیمی اداروں کے مالکان کا تعلق یا تو اساتذہ برادری سے ہے یا کسی نا کسی طرح اساتذہ اس میں حصہ دار ضرور ہیں ۔یا پھر دوسرے لفظوں میں محکمہ تعلیم کا کوئی نا کوئی اہل کا راس کی آبیاری میں مصروف عمل ہے۔کیا یہ زندہ قوموں کی علامت ہے؟سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ ایک شخص نے کئی کئی سکول کھو ل رکھے ہیں ۔والدین اپنے بچوں کے اخرجات کے بوجھ سے بہت پریشان ہیں۔ آئے دن فیسوں میں اضافے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔مختلف قسم کے فنگشنز کے ذریعے طلباء وطالبات کے وقت اور پیسے کا ضیاع کیا جا رہا ہے۔کتابوں کا پیو ں کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ اس عمل کو صرف چھوٹی سطح پر ہی نہیں بلکہ بڑی سطح پر بھی دھرایا جاتا ہے۔

قوم کو حضرت شاہ ولی ﷲ۔ابن خلدون ،علامہ اقبال اور قائداعظم کے تعلیمی نظریات سے بہت دور کر دیا گیا ۔بڑے بڑے کالجز جامعات چاہے ان کا تعلق میڈیکل سے ہویا ٹیکنالوجی یا کمپیوٹر سائنس سے سبھی لوٹ مار میں مصروف ہیں ۔چشمت میڈیکل کالج کا واقعہ حال ہی میں نظر سے گزرا ہے۔سب مالکان نیچے سے اوپر تک والدین اور طلباء کو سبز باغ دکھا کر تعلیم کے نام پر تعلیم کے پاکیزہ شعبے کو رسوا کر رہے ہیں۔ سر ٹیفکیٹ اور ڈگریا ں فروخت ہو رہی ہیں ۔قائداعظم اور علامہ اقبال کے پاکستان کے ساتھ یہ کس کا مزاق کیا جا رہا ہے۔برائے فروخت ڈگریا ں ہمارے بڑے بڑے نامی گرامی سیا ستدانوں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز بیورو کر یٹس کے پاس موجود ہیں ۔جب کھبی ان کی ویری فیکشن کی بات چھڑتی ہے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں ۔راتوں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں ۔زرا سوچیے تو یہ سب زندہ قوموں کی علامت ہے ۔ہمیں دل کی اتھا گہرائیوں سے سوچنا ہو گا ۔کیا اس وقت سوچیں گے جب چڑیا ں چگ جائیں گی۔گھمبیر مسائل میں گھرا ہوا تعلیمی نظام کس طرح ریا ست مدینہ کے خواب کو پورا کرنے کے قابل ہو گا۔

ہمارے ملک میں تربیت یافتہ ذہین وفطین اور درد دل رکھنے والے افراد کی کوئی کمی نہیں ہے ۔جس قوم کی رہنمائی کے لیئے حدیث رسول ۖ اور قرآن قریم موجود ہوں اسے کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہے ۔گھر کو گھر کے چراغ سے آگ لگ رہی ہے ۔اور ہم تباہی کی طرف گامزن ہو رہے ہیں ۔اور یہ سلسلہ نہ تھمنے والے اور گہرے تکلیف دہ اہدف کی طرف بڑھ رہا ہے ۔دینی تعلیم کے مدرسے بھی اپنے معیار کو کھو بیٹھے ہیں ۔شاید کہ ہم بھٹک چکے ہیں ۔وقت کا تقاضا ہے ۔کہ ان سب کالی بھیڑوں کو جو تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔نکال باہر کرنا چائیے ۔ہمیں ہر وہ کام کر گزرناچائیے جس سے ہماری نسل نو کا مستقبل محفوز ہاتھوں میں چلا جائے ۔ہمارے اہل اقتدار بہت سمجھد ار ہیں معیار اور مقدار کو بہتر طریقے سے جانتے ہیں اور ہمیں بہتری کی امید ہے ۔کیونکہ امید پر دنیا قائم ہے ۔بطور مسلمان اور پاکستانی مجھے یقین ہے کہ حکمرانوں کو اس نظام کو بہتر کرنے کا ادراک ضرور ہے۔

بڑے ذہین اور فطین لوگوں کا قافلہ ملک کی باگ ڈور سنبھا لے ہو ائے ہے ۔غریب والدین بچوں کے تعلیمی اخراجات کے بوجھ کو اٹھا ضرور رہے ہیں لیکن بلبلا تے ہوئے ۔جو والدین لٹ چکے ہیں ۔ان کی تکالیف کا ازالہ تو شاید نہ ہو سکے مگر آئندہ کے لیئے ایسی حکومت عملی واضح کی جائے کہ کسی تعلیم کے فروخت کار کو غریبوں کی قسمت کے ساتھ کھیلنے کی جراء ت نہ ہو گی ڈگریا ں سر ٹیفکیٹ تعلیمی اخراجات کی رسیدیں بن کر نہ رہ جائیں بلکہ ان کو حاصل کرنے والے ملک و قوم کی اس طرح خدمت کریں ۔کہ یہ قوم واقعی ایک زندہ قوم کہلانے کے قابل ہو جائیں ۔تعلیمی عمل سے منسلک ہر فرد کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے ۔بچوں کو قوم کا سرمایہ سمجھ کر اس کی حفاظت کرنی ہو گی ۔اگر ہم ایسانہ کر سکے تو وہ وقت دور نہیں کہ ہم ذلت کی چکی میں پستے ہوائے نظر آئیں گے ۔ہم ضرور خود کو بدلیں گے ۔یہ وقت کا تقاضا ہے ۔یہ مستقبل بہتری کا سوال۔

خدانے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
Tahir Mahmood

تحریر : طاہر محمود

Share this:
Imran Khan
Previous Post سرسبز پاکستان کا خواب
Next Post اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس انتقال کر گئے
Islamabad High Court

Related Posts

Paris Charges Suspect in €319M Drug Money Laundering

فرانس میں منی لانڈرنگ کا بڑا نیٹ ورک بے نقاب، 319 ملین یورو کی منی لانڈرنگ

September 19, 2026
Russia's War Veterans Storm Parliamentary Elections

روس کے انتخابات میں جنگ کے تجربہ کاروں کا بول بالا، داستانیں سنائی جا رہی ہیں

September 19, 2026
Boy, 7, Suspected in Aunt's Knife Killing in France

سینٹ مور دے فوسے میں خوفناک واقعہ: 7 سالہ بچہ اپنی خالہ کے قتل کا ملزم، والدہ حراست میں

September 19, 2026
Teen Charged Over Alleged School Attack Plot in Lyon

فرانس: 15 سالہ نوجوان پر سابق اسکول میں دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کا الزام

September 19, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.