مرکزی بینک کے اعداد و شمار سے انکشاف
اسلام آباد: مالی سال 2026 کے پہلے چھ ماہ میں حکومتی قرضوں میں 641 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد کل قرضوں کا حجم 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 کے اختتام تک حکومتی قرضوں میں 0.82 فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
ملکی قرضوں میں تیزی، بیرونی قرضوں میں کمی
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرضوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ملکی قرضے ہیں جو جون کے مقابلے میں 1.63 فیصد بڑھ کر 55.4 کھرب روپے ہو گئے۔ اس کے برعکس بیرونی قرضوں میں ایک فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی جو 23.1 کھرب روپے رہ گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال حکومت کی مقامی بینکنگ سیالیت پر انحصار کو ظاہر کرتی ہے۔
ماہرین کا تجزیہ
اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ صادق حنیف کا کہنا تھا کہ “قرضوں میں اضافہ بنیادی طور پر ملکی ذرائع سے ہوا ہے، خاص طور پر پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز، اسلامی بانڈز اور ٹریژری بلز کے ذریعے۔ یہ صورتحال حکومت کی بیرونی مالیاتی حالات کے مقابلے میں مقامی بینکنگ سیالیت پر انحصار کو ظاہر کرتی ہے۔”
کل قرض و ذمہ داریاں 95.5 کھرب روپے
مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی کل قرض و ذمہ داریاں دسمبر 2025 کے اختتام تک 95.5 کھرب روپے تک پہنچ گئی ہیں جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ تاہم قرضوں کی خدمت کے اخراجات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جو 5.2 کھرب روپے رہ گئے۔
ڈالر کے حساب سے بیرونی قرضے
ڈالر کے حساب سے پاکستان کے کل بیرونی قرضے اور ذمہ داریاں 31 دسمبر 2025 تک 138 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ مالی سال 2026 کے دوسرے سہ ماہی میں ملک نے بیرونی قرضوں کی خدمت کے لیے 4.1 ارب ڈالر کی ادائیگی کی۔
حکومتی موقف اور تشویش
حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی مالیاتی پوزیشن بہتر ہو رہی ہے اور وہ 2024 کے آخر سے 3.65 کھرب روپے کے ملکی قرضے وقت سے پہلے واپس کر چکی ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ قرضوں کی یہ بلند سطح سالانہ بجٹ کا نصف حصہ نگل رہی ہے جس سے ترقیاتی اور سماجی اخراجات کے لیے بہت کم گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔
