اسلام آباد/واشنگٹن/تہران: ایک غیر متوقع سفارتی پیش رفت میں، پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری خونیں جنگ کو روکنے اور تزویراتی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کی صبح اس اہم معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے اسے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا ضامن قرار دیا۔
یہ معاہدہ، جو ابھی ایک فریم ورک ہے، فروری میں اسرائیلی اور امریکی فورسز کے ایران پر مشترکہ حملوں سے شروع ہونے والے تنازعے کے خاتمے کی جانب سب سے بڑی پیش رفت ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک اور عالمی توانائی کی منڈیاں شدید متاثر ہوئی تھیں۔
شہباز شریف کا اعلان: تمام محاذوں پر کارروائیاں ختم
وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ دونوں فریقوں نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے کی باضابطہ دستخط کی تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔
وزیراعظم نے قطری قیادت کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی ثالثی کی کوششوں نے اس معاہدے کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے سعودی عرب اور ترکیہ کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کی قیادت کودور اندیش” اور معاہدے تک پہنچنے میں ان کے “بے پناہ تعاون” کو اجاگر کیا۔
ٹرمپ کا اعلان: “ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر اس معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا، “اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے اور جسے ایران نے مہینوں سے مؤثر طریقے سے بند کر رکھا تھا، جمعہ کو دوبارہ کھول دیا جائے گ۔ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کا بھی حکما ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹریٹ نے بھی ایک بیان میں کہا کہ پیر کی رات سے لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ اور فوجی کارروائیاں مستقل طور پر ختم ہو جائیں گی۔
مستقبل کے مذاکرات: جوہری پروگرام اور پابندیاں
معاہدے کی درست شرائط فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں، تاہم ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ 60 روزہ جنگ بندی کی مدت کے دوران ایک مزید وسیع معاہدے پر بات چیت کی جائے گی، جس میں ایران پر سے پابندیوں میں نرمی بھی شامل ہوگی۔ ذرائع کے مطابق، ایران کے جوہری پروگرام کا حساس مسئلہ بھی انہی بعد کے مذاکرات میں زیر بحث آئے گا۔
اس اعلان پر اسرائیل کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جس نے کہا تھا کہ وہ امریکہ-ایران مذاکرات کا حصہ نہیں ہے۔
عالمی ردعمل اور معاشی اثرات
اس خبر کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ برینٹ کروڈ فیوچرز پیر کی صبح 4 فیصد گر گئے جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی رہی۔
مشرق وسطیٰ سے باہر کے رہنماؤں نے بھی اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ برطانیہ، جرمنی، فرانس اور اٹلی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے “واضح، قابل تصدیق اقدامات” کے جواب میں پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا، “یہ واضح ہے کہ اب آبنائے ہرمز میں بغیر کسی رکاوٹ کے آزادانہ جہاز رانی بحال ہونی چاہیے۔ ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہیں ہونا چاہیے۔”
یہ معاہدہ اسرائیل کے لبنان پر اتوار کو کیے گئے ایک حملے کے باوجود طے پایا، جس پر ایران اور ٹرمپ دونوں نے تنقید کی تھی۔ اس پیش رفت نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل بڑھتی ہوئی گیس کی قیمتوں سے پریشان امریکی عوام اور ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی موڑ فراہم کیا ہے۔
