اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق قراردادوں کو اکثریتی ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے اجلاس میں دونوں قراردادیں پیش کیں۔
اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ سے متعلق صدارتی فرمان بھی ایوان میں پیش کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کے حق میں 214 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ 56 ارکان نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔
قراردادوں کی تفصیلات
ایوان نے وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کی جانب سے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے مشترکہ اجلاس میں پیش کردہ درج ذیل قراردادیں منظور کیں:
- قرارداد نمبر ایک: مشترکہ اجلاس، آئین کے آرٹیکل 232 کی شق سات کے تحت، صدر کی جانب سے 11 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا میں جاری کردہ ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری دیتا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 232 کی شق ایک کی دوسری شرط کے تحت جاری کیا گیا تھا۔
- قرارداد نمبر دو: مشترکہ اجلاس، آئین کے آرٹیکل 234 کی شق تین کے تحت، خیبر پختونخوا میں صدر کی جانب سے 11 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ اعلان کی منظوری دیتا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 234 کی شق ایک کے تحت جاری کیا گیا تھا۔
وزیراعظم کی اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت
دوسری جانب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی سے ملاقات بھی کی، جس موقع پر وزیراعظم نے ایک بار پھر انہیں مذاکرات کی دعوت دی۔
وزیراعظم نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کا معاملہ ایک سال سے تعطل کا شکار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ ایک اہم آئینی تقاضا ہے اور کسی کو بھی اس معاملے کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔
اجلاس کی اہم پیش رفت
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق قراردادوں کی منظوری اور وزیراعظم کی مذاکرات کی دعوت اس اجلاس کی اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں۔
