حکومتی اعدادوشمار میں خطرناک اضافہ
اسلام آباد: ملک میں گذشتہ چھ سال کے دوران غربت میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے مطابق 2024-25 میں آبادی کا 28.8 فیصد حصہ غربت کی لپیٹ میں ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2018-19 میں غربت کی شرح 21.9 فیصد تھی جو گذشتہ چھ سال میں تقریباً 6.9 فیصد بڑھ کر موجودہ سطح پر پہنچ گئی ہے۔
صوبائی سطح پر صورتحال
غربت میں یہ اضافہ تمام صوبوں میں دیکھا گیا ہے، خاص طور پر پنجاب اور سندھ میں صورت حال زیادہ سنگین ہے۔ ماہرین کے مطابق تین آئی ایم ایف اسٹیبلائزیشن پروگرامز، کووڈ-19 کے اثرات، اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، افراط زر، کم جی ڈی پی گروتھ ریٹ، دو سپر سیلاب اور گندم کی سپورٹ قیمت ترک کرنے جیسے عوامل نے غربت میں اضافے کا باعث بنے ہیں۔
کمیٹی کی سفارشات
منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے 17 رکنی ہائی پاورڈ پاورٹی ایسٹیمیشن کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کی سربراہی ڈاکٹر جی ایم عارف نے کی۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات اور رپورٹ حکومت کو جمع کرا دی ہے۔ حکومت غربت کا تخمینہ لگانے کے لیے کاسٹ آف بیسک نیڈز (سی بی این) کے طریقہ کار کو استعمال کرتی ہے، جس میں سی پی آئی پر مبنی افراط زر کے ذریعے حد مقرر کی جاتی ہے۔
شہری اور دیہی علاقوں کا موازنہ
2005-06 میں ملک میں غربت کی شرح 50.4 فیصد تھی جو 2018-19 میں کم ہو کر 21.9 فیصد رہ گئی تھی۔ 2018-19 میں شہری علاقوں میں غربت کا تناسب 11 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 28.2 فیصد تھا۔ تاہم حالیہ برسوں میں یہ رجحان الٹ گیا ہے اور غربت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
مزید اعدادوشمار کا انتظار
حکومت لیبر فورس سروے بھی مکمل کر چکی ہے جس کے جلد جاری ہونے کی توقع ہے۔ یہ سروے ملک میں روزگار اور بے روزگاری کی صورتحال پر مزید روشنی ڈالے گا۔ منصوبہ بندی کے وزیر سے توقع ہے کہ وہ 2024-25 کے لیے سرکاری غربت کے اعدادوشمار جاری کریں گے۔
