اطلاعات کے مطابق کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا
وزارت اطلاعات نے جمعہ کے روز تصدیق کی کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فتنۂ خارجی نامی دہشت گرد گروپ کے دو ابتدائی نوعیت کے ڈرونز کو الیکٹرانک کاؤنٹر میژرز کے ذریعے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ وزارت کے مطابق ڈرونز کے ملبے سے معمولی نوعیت کا نقصان ہوا ہے تاہم کسی فوجی یا دیگر انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
طالبان حکومت کے دعووں کو مسترد کر دیا گیا
وزارت اطلاعات نے افغانستان میں طالبان حکومت کے حالیہ دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس کوئی قابل تصدیق ثبوت موجود نہیں ہے۔ وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ یہ واقعہ طالبان حکومت کے دہشت گرد گروپوں کی پناہ گاہ اور ان کے سرپرست کے قائم کردہ کردار کو مکمل طور پر بے نقاب کرتا ہے، جن میں فتنۂ خارجی اور فتنۂ ہندوستان جیسے بھارتی پراکسی گروپ شامل ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ طالبان حکومت کے سرکاری اکاؤنٹس، بشمول اس نام نہاد وزارت دفاع کے اکاؤنٹ، جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کو پھیلانے کے لیے جانے جاتے ہیں، جن میں حال ہی میں پاک فضائیہ کے طیارے گرانے اور پائلٹس کو گرفتار کرنے کے فضول دعوے بھی شامل ہیں جنہیں بعد میں بے شرمی سے حذف کر دیا گیا۔
آپریشن غضب للہ کے دوران 650 سے زائد طالبان ہلاک
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے جمعہ کو بتایا کہ سرحدی علاقوں میں جاری آپریشن غضب للہ کے دوران پاکستان کی فضائی کارروائیوں میں 650 سے زائد افغان طالبان جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ 800 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں جبکہ 249 چوکیاں تباہ ہو چکی ہیں۔
اس آپریشن سے قبل پاکستان نے حالیہ خودکش حملوں کے جواب میں پاک افغان سرحد کے ساتھ فتنۂ خارجی، اس کے اتحادیوں اور داعش خراسان سے تعلق رکھنے والے سات دہشت گرد کیمپوں اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ فضائی حملے افغانستان کے صوبوں ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں کیے گئے تھے جن میں 80 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔
سرحدی جھڑپیں اور مذاکرات ناکام
دونوں ممالک اکتوبر 2025 میں سرحدی جھڑپوں میں بھی ملوث رہے تھے جب افغان طالبان اور دہشت گردوں نے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر بلا اشتعال حملے کیے تھے۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں 200 سے زائد طالبان اور ان سے وابستہ دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 23 پاکستانی فوجی وطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو گئے تھے۔
تاہم متعدد دور مذاکرات کے باوجود افغان طالبان حکومت کی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کی وجہ سے دونوں ممالک کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔ وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان اپنی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام کرنے پر مصمم ہے۔
