ریاض: سعودی عرب کے شہر ریاض میں واقع شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک میزائل حملے کے نتیجے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (GACA) نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
حملے کی تفصیلات اور نقصانات
سول ایوی ایشن اتھارٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق، حملے سے ایئرپورٹ کی عمارت اور سہولیات کو بھی مادی نقصان پہنچا ہے۔ حکام نقصان کی شدت کا جائزہ لے رہے ہیں اور ایئرپورٹ کی سہولیات کی حفاظت کا معائنہ کر رہے ہیں۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے داغا گیا ایک میزائل ہوا میں ہی روک لیا گیا تھا۔
یہ حملہ ریاض ایئرپورٹ پر ایک روز قبل ہونے والے ایک اور مہلک حملے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں اطلاعات کے مطابق 12 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ سعودی زیرقیادت اتحاد نے ہفتے کے روز ہونے والے حملے کا ذمہ دار یمن کے حوثی گروپ کو ٹھہرایا تھا، جس نے سعودی تنصیبات پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
بار بار حملے، سیکیورٹی خدشات میں اضافہ
مسلسل ہونے والے ان حملوں نے مملکت کے مرکزی ایئرپورٹ کے گرد سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ سعودی حکام حملوں کے بعد نقصان کا جائزہ لینے اور حفاظتی معائنے کے عمل میں مصروف ہیں، جبکہ ایئرپورٹ کی کارروائیوں میں بھی خلل پڑا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا اظہارِ افسوس
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اپنے پیغام میں وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاض میں پاکستان کا سفارت خانہ سعودی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے۔
