اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج کی آئینی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے الگ الگ اجلاس آج (بدھ) طلب کیے گئے ہیں، جہاں ایمرجنسی کی منظوری سے متعلق قراردادیں پیش کی جائیں گی۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس
پارلیمانی ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس صبح 11 بجے جبکہ سینیٹ کا اجلاس سہ پہر 4 بجے منعقد ہوگا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کا آٹھ نکاتی ایجنڈا بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد کی منظوری شامل ہے۔
دونوں ایوانوں میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کی توثیق کے لیے قراردادیں پیش کی جائیں گی۔
مشترکہ اجلاس 15 اکتوبر کو
دریں اثنا، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعرات 15 اکتوبر کو صبح 11 بجے 30 منٹ پر طلب کیا گیا ہے۔ یہ اجلاس آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کی باقاعدہ توثیق کرے گا۔
حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے آئینی اقدامات کی پارلیمانی منظوری کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کا پارلیمانی اجلاس
قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کا پارلیمانی پارٹی اجلاس منگل کو منعقد ہوا، جس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال اور وفاقی حکومت کے اگلے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
- اجلاس میں شرکاء کو گورنر راج اور صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی وجوہات سے آگاہ کیا گیا۔
- وزیراعظم شہباز شریف نے پارلیمانی پارٹی کو حکومت کی آئندہ حکمت عملی پر اعتماد میں بھی لیا۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا۔
