پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے المناک واقعے میں 30 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں بچے اور ایک خاتون ٹیچر بھی شامل ہیں۔ اس سانحے کے بعد پولیس نے اسکول کے مالکان اور تعمیراتی ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
آغا میر جانی شاہ تھانے میں مقدمہ درج
پولیس کے مطابق مقدمہ آغا میر جانی شاہ پولیس اسٹیشن میں اسکول کے مالکان اور بلڈنگ کنٹریکٹر کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق اسکول کی عمارت مبینہ طور پر گھٹیا تعمیراتی میٹریل استعمال کرتے ہوئے تعمیر کی گئی تھی اور یہ خستہ اور غیر محفوظ حالت میں تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عمارت کی دیواروں اور چھتوں کی خراب حالت کے حوالے سے پہلے بھی شکایات سامنے آئی تھیں، لیکن اسکول انتظامیہ اور مالکان نے طلبہ کی شکایات کے باوجود ان خدشات کو دور کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔
چھت گرنے کے واقعے کی تفصیلات
ایف آئی آر کے مطابق اسکول کی دوسری منزل پر واقع نرسری کلاس روم اور گراؤنڈ فلور کے کمروں کی چھتیں گر گئیں، جس کے نتیجے میں جانی نقصان اور املاک کو نقصان پہنچا۔
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق یہ اسکول 16 مرلہ پلاٹ پر تعمیر کیا گیا تھا، جس کے مالکان وحید اور جاوید بتائے جاتے ہیں۔ زمین مبینہ طور پر 2024 میں لیز پر دی گئی تھی، جس کے بعد اسکول کی عمارت تعمیر کی گئی۔
مقدمے میں شامل دفعات
پولیس نے بلڈنگ کنٹریکٹر، جائیداد کے مالکان اور شیئر ہولڈرز کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 322، 148 اور 149 کے تحت مقدمہ شامل کیا گیا ہے، جو لاپرواہی سے موت واقع کرنے اور دیگر مبینہ جرائم سے متعلق ہیں۔
- واقعے میں 30 سے زائد افراد جاں بحق، جن میں بچے اور ایک خاتون ٹیچر شامل
- مقدمہ اسکول مالکان اور تعمیراتی ٹھیکیدار کے خلاف درج
- عمارت گھٹیا میٹریل سے تعمیر اور خستہ حالت میں ہونے کا انکشاف
- عمارت کی خرابی سے متعلق پہلے بھی شکایات موصول
- 16 مرلہ پلاٹ 2024 میں لیز پر دیا گیا، جس پر اسکول تعمیر ہوا
