وزیراعظم کا اعلان: پاکستان کی ترقی کا راز جادو نہیں، محنت ہے

علمائے کرام سے اپیل: فرقہ واریت کے خلاف کردار ادا کریں

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کا راز جادو ٹونے میں نہیں بلکہ سخت محنت میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ اتحاد سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ قومی علماء کانونشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے کے بغیر ملک میں پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے مذہبی علماء سے اپیل کی کہ وہ فرقہ واریت کو روکنے اور تمام مکاتب فکر کے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دینے میں فعال کردار ادا کریں۔

مسلح افواج کی بہادری کو خراج تحسین

وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بھارت کے خلاف معرکہ حق میں عظیم فتح سے نوازا ہے جو مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، بہادری اور قوم کی دعاؤں کا نتیجہ تھی۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں تمام خدمات، پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے یکساں کردار کو سراہا۔

ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا پاکستان کی کارکردگی کو تسلیم کر رہی ہے جبکہ مسلم ممالک اس تاریخی فتح پر فخر کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس کے باوجود کچھ عناصر کی مسلح افواج کے خلاف پروپیگنڈا مہم پر تشویش کا اظہار کیا۔

معیشت کو مستحکم بنانے کا عزم

معیشت کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے اسے تیز رفتار ترقی کی طرف بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سیاسی اور فوجی قیادت نے ڈیفالٹ کے خطرے سے بچانے کے لیے انتھک محنت کی ہے۔

انہوں نے حکومت کے عزم کی تجدید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو معاشی خوشحالی کے راستے پر ڈالنے کا وقت آ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اخراجات میں کمی کے اقدامات نافذ کرکے اور اجتماعی طور پر کام کرکے ہی قوم قائداعظم محمد علی جناح کے خوابوں کو پورا کر سکتی ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خطاب

کانونشن سے اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان گہرا تعلق ہے اور ان کے درمیان دفاعی معاہدہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلم ممالک میں پاکستان کو حرمین شریفین کے محافظ ہونے کا اعزاز بخشا ہے۔

فیلڈ مارشل نے کہا کہ دہشت گردی بھارت کا شیوہ ہے اور پاکستان دشمنوں کا کھلے میدان میں مقابلہ کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کوئی جہاد کا حکم نہیں دے سکتا۔ انہوں نے علماء سے اپیل کی کہ وہ قوم کو متحد رکھیں اور عوام کے نقطہ نظر کو وسیع کریں۔