geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
October 27, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • France's Protest Aftermath: When Dinner Table Debates Turn Toxicفرانس میں مظاہروں کے بعد خاندانی مباحثے: تشدد کی خبریں، مطالبات نظرانداز
    • Why Some Friends Overshare and Others Wait to Be Askedکیا آپ کی دوستی میں بھی گفتگو کا سارا بوجھ آپ اٹھاتے ہیں؟ ماہرین نے “رضاکار” اور “مہمان” طرزِ گفتگو کے راز کھول دیے
    • Six Autumn Escapes in France You Can Reach Without a Carفرانس میں بغیر گاڑی کے خزاں کی سیر: چھ خوبصورت مقامات جہاں پبلک ٹرانسپورٹ سے پہنچا جا سکتا ہے
    صحت و تندرستی
    • Beat the Yo-Yo Effect With Protein and Strength Trainingڈائٹ کے بعد وزن واپس بڑھنے سے بچنے کا مؤثر طریقہ: ہر کھانے میں پروٹین اور طاقت کی مشقیں
    • Black Market for Eli Lilly's Retatrutide Raises Alarmغیر منظور شدہ موٹاپا کش دوا ریٹاٹروٹائیڈ کی آن لائن غیر قانونی فروخت پر تشویش
    • Europe's West Nile Season Sets Record as Virus Pushes Northیورپ میں ویسٹ نائل وائرس کا بدترین سیزن، 1,715 کیسز اور 130 ہلاکتیں
    دلچسپ اور عجیب
    • Justice Takes the Wheel: French Electro Duo to Score GTA VI Soundtrackجسٹس فرانسیسی الیکٹرو جوڑی جی ٹی اے 6 کی ساؤنڈ ٹریک تیار کرے گی
    • Drought and Heatwaves Halve Ardèche Chestnut Harvest as Europe Braces for Price Risesخشک سالی اور گرمی کی لہروں نے فرانس میں شاہ بلوط کی فصل کو تباہ کر دیا
    • Salt Stomping: TikTok's Viral Sleep Hack That Experts Say Doesn't Workسالٹ اسٹامپنگ: کیا نمک پر چلنا واقعی نیند کو بہتر بناتا ہے؟
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Mom Slams School for AI-Generating Adult Photo of 6-Year-Oldامریکی اسکول کا چھ سالہ بچی کی “بالغ شکل” بنانے پر تنازعہ: والدین کی اجازت کے بغیر مصنوعی ذہانت کا استعمال
    • Critical PHP Flaws Take Down Global Government Websitesپی ایچ پی میں خطرناک سیکیورٹی خامیاں، دنیا بھر میں سرکاری ویب سائٹس آف لائن
    • Justice Takes the Wheel: French Electro Duo to Score GTA VI Soundtrackجسٹس فرانسیسی الیکٹرو جوڑی جی ٹی اے 6 کی ساؤنڈ ٹریک تیار کرے گی
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

سیاسی بساط پر مسلمانوں کی حیثیت ! دوسری قسط

April 15, 2019 1 1 min read
Indian Elections
Share this:

Indian Elections

تحریر : محمد آصف اقبال

لوک سبھا الیکشن کے پہلے مرحلے کی پولنگ بیس ریاستوں کی اکّیانوے سیٹوں پر مکمل ہو گئی ہے۔اترپردیش، بہار، مغربی بنگال، آندھر اپردیش، تلنگانہ اور اتراکھنڈسمیت 20 ریاستوںم یں صبح سے ہی پولنگ بوتھوں پر لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں اور کل 59%فیصد ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا۔ اکّیانوے سیٹوں کے چودہ کروڑ سے زائد ووٹروں نے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا ہے۔ان میں جموں و کشمیر کی دو لوک سبھا سیٹوں پر بھی پہلے مرحلے میں ووٹنگ ہوئی اور ریاست میں کل 49.54فیصد ووٹ کاسٹ ہوئے۔بارہمولہ میں 29.32فیصد اور جموں میں39.67فیصد کے قریب ووٹنگ ہوئی جو گزشتہ انتخابات2014میں 57%فیصد کے مقابلہ کافی کم ہے۔اسی درمیان چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس سنجے کے کول نے بدھ کے دن دیئے اپنے ایک فیصلے میں کہا کہ رازداری کے نام پر میڈیا کی رپورٹ نہیں روکی جاسکتی۔دراصل ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے کہا ‘نہ تو ہندوستانی پارلیمنٹ کا بنایاکوئی قانون اور نہ ہی انگریزوں کا بنایا آفیشیل سکریٹ ایکٹ’ میڈیا کو کوئی دستاویز یا معلومات شائع کرنے سے روک سکتا ہے اور نہ ہی کورٹ ان دستاویزات کو خفیہ مان سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ مرکزی حکومت قومی سلامتی کا حوالہ دے کر آرٹی آئی یا حق اطلاعات کے تحت طلب کی گئی معلومات دینے سے انکار نہیں کر سکتی ہے۔حالانکہ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ صرف معلومات مانگنے بھر سے معلومات مل جائے گی۔اطلاع مانگنے والے کو اپنے دلائل سے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس طرح کی معلومات کو چھپانے،معلومات دینے سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتاہے۔وہیں دوسری طرف سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو زبردست جھٹکا دیتے ہوئے ‘خاص اور خفیہ’دستاویزات پر مرکز کے استحقاق کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دستاویزات عدالت میں درست ہیں۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی،جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس کے ایم جوزف کی بنچ نے مرکز کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نظرثانی درخواستوں کی سماعت میرٹ کی بنیاد پر کی جائے گی اور اس کے لیے نئی تاریخ مقرر کی جائے گی۔برخلاف اس کے مرکزی حکومت کا ابتدائی اعتراض تھا کہ کیا عدالت نظر ثانی درخواست دائر کرنے والوں کی جانب سے دستیاب کرائے گئے خصوصی اور خفیہ دستاویزات پر سماعت کر سکتی ہے؟سابق مرکزی وزرا،ارون شوری اور یشونت سنہا اور جانے مانے وکیل پرشانت بھوشن رافیل لڑاکا طیارے سودا معاملہ میں عدالت کے گزشتہ سال14دسمبر کو دیئے فیصلے کا جائزہ لینے کے لیے عرضیاں دائر کی تھیں،جن میں انہوں نے کئی ایسے دستاویزات لگائے تھے،جو مرکزی حکومت کی نظر سے خاص قسم کے اور خفیہ تھے۔

لوک سبھا الیکشن کی گہما گہمی کے درمیان دارلعلوم دیوبند کے حوالہ سے یہ وضاحتی خبر بھی سامنے آئی کہ دارلعلوم دیوبند ایک غیر سیاسی اور خالص تعلیمی ادارہ ہے جس کی جانب سے ماضی و حال میں کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت میں کوئی بیان جاری نہیں کیا اور نہ کیا جائے گا لیکن اطلاعات مل رہی ہیں کہ کسی شر پسند کے ذریعہ سوشل میڈیا پر دارلعلوم دیوبند کی جانب سے کوئی جعلی سیاسی اپیل پھیلائی جا رہی ہے جس میں کسی ایک کی حمات اور مخالفت کی اپیل ہے،یہ سراسر غلط ہے ۔دارالعلوم دیوبند اور اس کے تمام ذمہ داران کی جانب سے اس وقت تک کسی کی حمایت یا مخالفت میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔وہیں دوسری جانب شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے اس استدلال کے ساتھ تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں نے مسلمانان ہند کو مایوس کیا ہے،لہذا2019کے لوک سبھا الیکشن میں کسی بھی سیاسی پارٹی کی حمایت میں اپیل نہ کرنے کا فیصلہ و اعلان کیا ہے۔مولانا نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کس کی حمات کی جائے اور کس کی نہیں۔اس کے باوجود انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملت کی سیاسی،اقتصادی،تعلیمی اور سماجی پسماندگی، وقف املاک پر ناجائز قبضے،اقلیتی بہبود کی وزرات کی کارکردگی،مختلف ادوار میں محض کاغذی فلاحی اسکیمیں سامنے لانے کے علاوہ وعدوں،بنایات اور اعلانات کی ایک طویل فہرست ہے جسے سامنے رکھتے ہوئے ملک کے عوام کو اور خصوصاً مسلمانوں کو بہت سوچ سمجھ کر اور دُور رس نتائج کو سامنے رکھ کر ایک نئی حکومت بنانے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔

مسلمانوں کے دو الگ الگ نمائندوں کے بنایات کے بعد اس خبر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جس میں اترپردیش کے سلطان پور سے مرکزی وزیر اور بی جے پی امیدوار مینکاگاندھی نے کہا کہ ہم کھلے ہاتھ اور کھلے دل کے ساتھ آئے ہیں،آپ کو کل میری ضرورت پڑے گی۔یہ الیکشن تو میں پار کرچکی ہوں۔انہوں نے مسلمانوں سے ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہ اگر وہ انہیں ووٹ نہیں دیں گے تو ان کے لیے بھی ،مسلمانوں کے کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔اس بیان کو عام انداز میں ہر شخص نے مینکاگاندھی کی جانب سے مسلمانوں کو دھمکی سے تعبیر کیا ہے اور یہی اس کی حقیقت بھی ہے۔گفتگو کے پس منظر میں جہاں ایک جانب مسلمانوں کو دنیا و آخرت کی سرخ روئی دلانے والے قائدین کنفیوژن کا شکار ہیں کہ 2019میں مسلمان جو ملک کا تقریباً15%فیصدحصہ ہیں اور آبادی کے اعتبار سے تقریباً20کروڑ کی تعداد میں موجود ہیں،کسے ووٹ دیں؟تاکہ ملک میں امن و امان قائم ہو اور نفرت کا بازار جو دن بہ دن بڑھتا ہی جا رہا ہے وہ کم ہو۔دوسری طرف کھلے عام یا دبے لفظوں میں مسلمانوں کو نظر انداز کرنے،انہیں کنارے لگانے اور ان کے وہ مسائل جو قانون و آئین کے دائرہ میں آتے ہیں،جنہیں حل کرنا ہر ممبر آف پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے ،اسے وہ حل کرنا نہیں چاہتے بلکہ الٹاانہیں ڈرایا اور دھمکایا جا تا ہے،اور کہا جا تا ہے کہ اگر وہ ایک خاص پارٹی کے امیدوار کوووٹ نہیں دیں گے تو وہ بھی ان کے کام نہیں کرے گا۔یہ صورتحال صاف طور پر واضح کرتی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حیثیت کس درجہ کمزور ہوتی جارہی ہے خصوصاً ان سیاسی پارٹیوں کے حوالہ سے جو ملک میں حکومت چلانے اور بنانے کا دعویٰ کرتی ہیں اور جو کہتی ہیں کہ ہم کسی خاص گروہ کے لیے نہیں بلکہ تمام اہل ہندوستان کی خدمت کے جذبہ سے سیاست میں سامنے آئے ہیں۔یہاں یہ بات بھی واضح کرنی مناسب سمجھتا ہوں کہ متذکرہ مسائل صرف کسی خاص نظریہ والی پارٹی تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ معاملہ یہ ہے کہ یہ صورتحال تمام سیاسی پارٹیوں میں موجود ہے۔

کیونکہ ایک جانب وہ ہیں جو کھلے طور پر اپنے عزائم اور ارادوں کو ظاہر کرتے ہیں تو وہیں دوسرے وہ بھی ہیں جو گرچہ عزائم و ارادے بھونڈے انداز میں ظاہر نہیں کرتے اس کے باوجوداُن کی سرگرمیوں سے صاف واضح ہوتا ہے کہ وہ بھی مسلمانوں کو اور ان کے ووٹ کو صرف ایک مدت یعنی الیکشن کے دنوں میں تو اہمیت دیتے ہیںلیکن جب وہ کامیاب ہو جاتے ہیں تو انہیں سرے سے نظر انداز کر دیتے ہیں،ان کی بات تک کرنا اپنی مجبوری سمجھتے ہیں،کیونکہ ہندوستان میں بے شمار ریاستیں ہیں۔جن میں ضمنی انتخابات،اسمبلی انتخابات،پنچایت اور وارڈ کے انتخابات سال کے تقریباًہر دو یا تین ماہ ہوتے ہی رہتے ہیں۔لہذا اس صورتحال کے پیش نظر وہ اپنی زبان،پالیسی،پروگرام،منصوبہ،اسکیمیں،اور مسائل کا حل مسلمانوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے نہیں بنانا چاہتے کیونکہ ان کو ڈر ہے کہ اس سے اکثریت کے ووٹ بٹ جائیں گے اور وہ ناکام ہو سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج ہی نہیں بلکہ گزشتہ ستر سال سے ایک طرف ہارڈ ہندتو کا نعرہ لگانے والے موجود ہیں تو وہیں سافٹ ہندتو کے علمبرداروں نے اپنے طرز عمل سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے وہ بھی مسلمانوں کے ہمدرد نہیں ہیں۔انہیں صرف غرض ہے تو ووٹ سے ۔اس سے زائد مسلمان کسی دھوکہ کا شکار نہ ہوں اور نہ ہی اکثریت سے وابستہ افراد کسی غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہوئے انہیں نظر انداز کریں۔اس صورتحال میں آپ باخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ مسلم سیاستدانوں کی حیثیت کیا کچھ ہوگی؟ ان کا عمل دخل پالیسی بنانے اور اسے روبہ عمل لانے میں کتنا ہوسکتا ہے؟اور جو مسائل خصوصاً مسلمانوں کے ہیں اور وقتاًفوقتاً ان میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے ،ان کے حل میں انہیں کس حد تک پارٹی اختیار دیتی ہو گی؟۔۔۔۔۔(جاری)
Mohammad Asif Iqbal

تحریر : محمد آصف اقبال
maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com

Share this:
Indian Elections
Previous Post بھارت میں مسخ سیکولر نہاد جمہوریت کے انتخابی میلے
Next Post حکومت کا گیس کی قیمتوں میں 80 فیصد تک اضافے کا عندیہ
Gas Prices

Related Posts

Lula's Brazil Victory Breathes New Life Into Spain's Embattled Left

لولا کی جیت سے ہسپانوی بائیں بازو میں نئی جان، سانچیز کا ’عالمی ترقی پسندی کی بحالی‘ کا اعلان

October 26, 2026
Musk's AI-Generated Odyssey Ridiculed as Nolan's Epic Sails Toward Oscars

ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی “اوڈیسی” سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں

October 26, 2026
Houthis Target Saudi Oil Pipeline and Riyadh Airport as Yemen Conflict Escalates

حوثیوں کا سعودی تیل تنصیبات اور ریاض ایئرپورٹ پر حملہ، خطے میں کشیدگی عروج پر

October 26, 2026
Egypt Edges Toward Yemen War as Parliament Backs Military Support for Saudi Arabia

مصر کی پارلیمنٹ نے سعودی عرب کو فوجی امداد دینے کی منظوری دے دی

October 26, 2026

Popular Posts

1 Vladimir Putin

امریکی میزائل تجربے کا جواب دیا جائے، پوٹن کی ہدایات

2 Imad Wasim

قومی کرکٹر عماد وسیم بھی رشتہ ازدواج میں منسلک

3 Meeting

انجینئر افتخار چودھری نے ریاٹرڈ جرنیل ڈاکٹر محمد مصطفی الجہنی سے ملاقات کی

4 Shah Mahmood Qureshi - António Guterres

شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے درمیان رابطہ طے پا گیا

5 Khamisani Socail Welfare Trust

محمد سلیم خمیسانی کا سیفی ویلفیئر سوسائٹی کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد

6 Indian Army in Kashmir

کرفیو اور لاک ڈاؤن کے باوجود ہزاروں کشمیریوں کا بھارت کیخلاف مظاہرہ

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.