کلیدی اشاریہ 1,432 پوائنٹس گر کر 166,258 پر بند
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کے روز بھی فروخت کا رجحان برقرار رہا، جس کے نتیجے میں بنچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1,432.54 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
انڈیکس 0.85 فیصد کی کمی کے ساتھ 166,258.54 پوائنٹس پر بند ہوا، تاہم سیشن کے دوران اس میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا۔ انڈیکس 169,237.51 پوائنٹس کی بلندی کو چھونے کے بعد 163,907.59 پوائنٹس کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا، جو 2.26 فیصد کی کمی کے برابر ہے۔
تجزیہ کاروں کا موقف
ماہرین کے مطابق مارکیٹ پر منفی رجحان کی متعدد وجوہات ہیں۔
- گزشتہ ہفتے اسٹیٹ بینک کی نیلامی میں حکومتی بانڈز کی پیداوار میں اضافہ
- امریکا کے نئے تجارتی ٹیرفز کا نفاذ
- ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی
- آئی ایم ایف کی تیسری جائزہ مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال
عارف حبیب کاموڈیٹیز کے منیجنگ ڈائریکٹر احسن مہنتی کا کہنا تھا کہ “امریکی تجارتی ٹیرفز کی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی سیاسی بحران اور آئی ایم ایف مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے خدشات نے پی ایس ایکس پر منفی سرگرمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔”
امریکی ٹیرفز کا نیا نظام
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے تجارتی ایجنڈے کو ازسرنو تعمیر کرنے کے اقدام کے بعد منگل سے درآمدی اشیا پر نئے امریکی ٹیرفز نافذ العمل ہو گئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ اقدام سامنے آیا جس میں ٹرمپ کے وسیع ڈیوٹیوں کے بڑے حصے کو کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔
نئی ڈیوٹیز ابتدائی طور پر 10 فیصد مقرر کی گئی ہیں، جو امریکا کے ادائیگیوں کے توازن میں خسارے کے جواب میں ہیں۔ ٹرمپ نے انہیں 15 فیصد تک بڑھانے کا اشارہ دیا ہے۔
ایران امریکا تعلقات پر کشیدگی
عالمی سطح پر صورتحال اس وقت اور کشیدہ ہو گئی ہے جب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے نہیں پاتا تو وہ “10 یا 15 دنوں” میں حملے کا فیصلہ کریں گے۔ ایک رپورٹ کے مطابق انہیں فوجی اختیارات پیش کیے گئے ہیں جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر براہ راست حملہ بھی شامل ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان دو دور کی غیر براہ راست بات چیت ہو چکی ہے اور تیسرے دور کا آغاز جمعرات سے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والا ہے۔
معاشی اشارے
اس دوران پاکستان کے معاشی اشاریوں میں جنوری کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 121 ملین ڈالر رہا، جو مضبوط ریمٹینس اور کم درآمدات کا نتیجہ تھا۔ تاہم مالی سال 2026 کے پہلے سات مہینوں میں مجموعی خسارہ 1.07 ارب ڈالر رہا۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق حساس قیمتی اشاریہ (ایس پی آئی) میں ہفتہ وار افراط زر 1.16 فیصد بڑھ کر 335.67 ہو گیا ہے۔
پی ایس ایکس میں یہ کمی اس وقت سامنے آئی ہے جب پیر کے روز انڈیکس میں 5,478 پوائنٹس کی تاریخی کمی دیکھنے میں آئی تھی۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عالمی اور علاقائی صورتحال میں استحکام آنے تک مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت برقرار رہنے کا امکان ہے۔
