پاکستان تحریک انصاف نے اپنے سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔ پارٹی کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل فردوس شمیم نقوی کی جانب سے بدھ کی رات جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق شیر افضل مروت کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کے بعد پارٹی سے نکالا گیا ہے۔ نوٹیفیکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے یہ قدم اٹھایا گیا۔
شیر افضل مروت نے سنہ 2017 میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی، اور آٹھ برس بعد ان کا پارٹی سے تعلق ختم ہو گیا ہے۔ نوٹیفیکیشن کے اجرا کے بعد شیر افضل نے ‘ایکس’ پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ عمران خان ہمیشہ ان کے لیڈر رہیں گے۔
مروت نے اپنی پارٹی سے نکالے جانے کی خدشات کا اظہار پہلے ہی کر دیا تھا۔ انہوں نے ‘ایکس’ پر کہا تھا کہ اگر انہیں پارٹی سے نکالا گیا تو وہ اس فیصلے کا خیرمقدم کریں گے، کیونکہ وہ پارٹی کے اندرونی سازشیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔
تحریک انصاف کے دور حکومت میں شیر افضل مروت کو سینیئر قیادت میں نہیں سمجھا جاتا تھا، لیکن نو مئی کے واقعات کے بعد وہ پارٹی کے اہم چہرہ بن کر سامنے آئے۔ اس دوران ان پر متعدد مقدمات درج کیے گئے اور وہ کئی بار گرفتار بھی ہوئے۔
مروت کی مقبولیت میں اضافہ اس وقت ہوا جب انہوں نے پارٹی کے مختلف کنونشنز میں لوگوں کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، وہ اپنی بے باک رائے کے باعث تنازعات کا شکار بھی رہے۔
شیر افضل مروت نے تحریک انصاف میں شمولیت سے قبل جمعیت علما اسلام (ف) کے ساتھ بھی کام کیا۔ ان کے بھائی خالد لطیف کے مطابق، شیر افضل کا خاندان سیاست میں متحرک رہا ہے، اور ان کے والد بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔
شیر افضل نے وکالت کا پیشہ اختیار کرنے کے بعد مختلف مقدمات میں عمران خان کی وکالت کی اور ان کی جرات کو پارٹی کارکنوں نے پسند کیا۔ حالیہ برسوں میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا جب وہ خیبر پختونخوا میں ورکرز کنونشنز کے ذریعے تحریک انصاف کو نیا ولولہ دینے میں کامیاب ہوئے۔
بی بی سی اردو کے مطابق، سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شیر افضل مروت نے نو مئی کے بعد کے حالات میں بہترین حکمت عملی اپنائی اور جرات کا مظاہرہ کیا۔ ان کی اس جرات کو کارکنوں نے سراہا، جبکہ ان پر سوشل میڈیا کے ذریعے مختلف الزامات بھی عائد کیے گئے۔ تاہم، مروت نے اپنے سٹائل اور میڈیا کے استعمال کے ذریعے عوام کو متاثر کیا۔
