گزشتہ رات گرینوبل کے ایک بار میں دستی بم حملے کے نتیجے میں بارہ افراد زخمی ہوگئے جن میں سے چھ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ گرینوبل کے علاقے ویلینوو-ولیج اولمپک میں پیش آیا۔ تاحال حملہ آور کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے کے بعد پیش آیا جب ایک شخص نے بار کے باہر سے گزرتے ہوئے دستی بم پھینکا جو بار کی مرکزی جگہ پر پھٹ گیا۔ اس بار کو مقامی اور باہر کے افراد کے لیے فٹبال میچ دیکھنے کی جگہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ گرینوبل سیکٹر 6 کی نائب میئر کلوئے پینٹل نے بتایا کہ یہ بار علاقے کے لوگوں کے لیے ایک مخصوص جمع ہونے کی جگہ ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق، حملہ آور کے پاس مبینہ طور پر کلاشنکوف بھی تھی، لیکن اس کے استعمال کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے دستی بم کی پن برآمد کر لی ہے، لیکن دہشتگردی کے امکان کو مسترد کردیا گیا ہے۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہر ممکنہ پہلو کو جانچنا ضروری ہے، تاہم اس وقت منشیات کی اسمگلنگ سے تعلق کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
گرینوبل کے میئر ایرک پیوله نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ ایک سنگین جرم تھا جس نے دس سے زائد افراد کو زخمی کردیا۔ انہوں نے فوری امدادی کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کا شکریہ بھی ادا کیا۔
گرینوبل کے مرکزی ہسپتال نے بھی فوری الرٹ جاری کیا ہے اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ علاقے کے رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔
علاقے کے رہائشی لیلہ نے بتایا کہ انہوں نے فائرنگ کے واقعات تو سنے ہیں لیکن ایک بھرے کمرے میں دستی بم پھینکنا انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ یہ ایک خوفناک واقعہ ہے اور امید کی جاتی ہے کہ کوئی بچہ اس حملے میں متاثر نہیں ہوا۔
یہ حملہ ایک ایسے مقام پر ہوا جہاں چار دیگر بارز بھی موجود ہیں جو عموماً ترک اور الجزائری کمیونٹی کے افراد چلاتے ہیں۔ یہاں لوگ چائے پینے اور ڈومینو کھیلنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ چند ہفتے قبل یہاں سگریٹ اسمگلنگ کے معاملے پر پولیس نے چھاپہ مارا تھا لیکن منشیات کے حوالے سے کچھ نہیں تھا۔
