پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پارٹی کا مارچ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک قید میں موجود سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کا اہتمام نہیں ہو جاتا اور پارٹی کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔
مطالبات کی تکمیل تک مارچ جاری رہے گا
شوکت یوسفزئی نے واضح کیا کہ مارچ کا سلسلہ پارٹی کے مطالبات کی تکمیل تک ختم نہیں ہوگا۔ انہوں نے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں پولیس کے لیے 190 ارب روپے کی مختص رقم کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے اور مطالبات پورے کیے بغیر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
مولانا فضل الرحمٰن کی ثالثی پر مثبت رویہ
صورتحال کے حل کی ممکنہ کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے یوسفزئی نے کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ثالثی کے لیے مولانا فضل الرحمٰن سے رابطہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے ثالثی کے امکان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمٰن مذاکرات میں سہولت کاری کا فیصلہ کریں تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
گورنر راج کے مطالبات پر سخت تنقید
پی ٹی آئی ترجمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے مطالبات پر سخت تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ اس اقدام کی وکالت کرنے والے افراد ذاتی مفادات کے تحت کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبائی گورنر صوبائی امور میں مداخلت کر کے اپنے حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
بانی سے ملاقات بنیادی مطالبہ
شوکت یوسفزئی نے ایک بار پھر دہرایا کہ مارچ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک پارٹی کے مطالبات، بالخصوص پارٹی کے بانی سے ملاقات، پورے نہیں ہو جاتے۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اپنے مطالبات کے حوالے سے کوئی نرمی نہیں برتے گی اور مارچ کا مقصد عوامی مطالبات کی تائید اور قائد سے ملاقات کو یقینی بنانا ہے۔
