روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے پیر کو سینٹ پیٹرزبرگ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ انہیں امید ہے کہ ایرانی عوام اس “مشکل دور” سے گزر جائیں گے اور جلد ہی امن قائم ہو جائے گا۔
روس نے امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں امن بحال کرنے کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے، جس کی ماسکو نے مذمت کی ہے۔ روس نے ایران کے افزودہ یورینیم کو ذخیرہ کرنے کی پیشکش بھی کی ہے تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے، لیکن امریکہ نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔
پوتن کا ایرانی رہبر کو پیغام
روسی سرکاری میڈیا کے مطابق، پوتن نے عراقچی سے کہا، “ہم اپنی طرف سے وہ سب کچھ کریں گے جو آپ کے مفادات اور خطے کے تمام لوگوں کے مفادات کے لیے ہو تاکہ جلد از جلد امن قائم ہو سکے۔”
انہوں نے مزید کہا، “پچھلے ہفتے مجھے ایران کے سپریم لیڈر کا پیغام ملا۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ ان کا شکریہ ادا کریں اور تصدیق کریں کہ روس، ایران کی طرح، اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔”
روس اور ایران کے تعلقات میں مضبوطی
ایران نے گزشتہ سال ماسکو کے ساتھ 20 سالہ اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ روس ایران کے واحد نیوکلیئر پاور پلانٹ بوشہر میں دو نئے نیوکلیئر یونٹ بنا رہا ہے، اور ایران نے روس کو یوکرین کے خلاف استعمال کے لیے شاہد ڈرون فراہم کیے تھے۔
روسی خبر رساں ایجنسی آر آئی اے نے بتایا کہ عراقچی نے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان تعلقات مضبوط ہوتے رہیں گے اور انہوں نے ماسکو کی حمایت پر پوتن کا شکریہ ادا کیا۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے درمیان اہم ملاقات
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی، جس کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔
روس نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ ملاقات روس اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات کا واضح ثبوت ہے۔
