جنوری 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 3 ارب ڈالر کی ترسیلات زر بھیج کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، جنوری 2025 کے دوران ورکرز کی ترسیلات میں جنوری 2024 کی نسبت 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے سات مہینوں میں مجموعی طور پر 20.8 ارب ڈالر کی ترسیلات وصول کی گئی ہیں، جو کہ مالی سال 2024 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 31.7 فیصد زیادہ ہیں۔ مالی سال 2024 کے ابتدائی سات مہینوں میں 15.8 ارب ڈالر کی ترسیلات پاکستان بھیجی گئی تھیں۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، جنوری 2025 میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے 72.83 کروڑ ڈالر، متحدہ عرب امارات سے 62.17 کروڑ ڈالر، برطانیہ سے 44.36 کروڑ ڈالر اور امریکا سے 29.85 کروڑ ڈالر کی ترسیلات بھیجی ہیں۔ یہ اعداد و شمار پاکستانی معیشت کے لیے ایک مثبت علامت ہیں، خاص طور پر اس وقت جب بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے رقوم کی ترسیل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب، سابق وزیراعظم عمران خان نے دسمبر 2024 میں بیرون ملک پاکستانیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ احتجاجاً ترسیلات زر نہ بھیجیں، جس کے باوجود جنوری 2025 میں رقوم کی آمد میں کمی نہیں آئی۔ اس صورتحال نے عمران خان کی اپیل کی اثر پذیری پر سوالات اٹھائے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس حوالے سے کہا ہے کہ معیشت میں استحکام کے بعد ترقی کی راہیں کھل چکی ہیں اور انہوں نے قوم کو ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافے پر مبارکباد دی۔ یہ صورتحال ان لوگوں کے لیے بھی ایک جواب ہے جو معیشت کے حوالے سے مایوسی کا شکار تھے۔
جنوری 2024 کے مقابلے میں جنوری 2025 میں ترسیلات زر میں ہونے والا یہ اضافہ پاکستانی معیشت کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔