واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شب اعلان کیا ہے کہ انہوں نے گرین لینڈ اور ڈنمارک کے ساتھ ایک ایسے معاہدے پر اتفاق کر لیا ہے جو واشنگٹن کو اس آرکٹک جزیرے کی سیکیورٹی پر “مستقل کنٹرول” فراہم کرے گا۔ یہ اعلان انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پوسٹ میں کیا۔
معاہدے کی تفصیلات کیا ہیں؟
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ کو گرین لینڈ کی “سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ دیگر تمام ضروریات” پر بغیر کسی وقتی حد کے “مستقل کنٹرول” دیتا ہے۔ امریکی صدر نے لکھا کہ انہوں نے اپنی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ “اس بات کو یقینی بنائے کہ امریکہ کو ہمیشہ کے لیے گرین لینڈ میں وہ تمام صلاحیتیں حاصل رہیں جو گرین لینڈ اور امریکہ کی سلامتی اور دفاع کے لیے ضروری ہیں۔”
عملی طور پر اس معاہدے کا مقصد واشنگٹن کے کسی بھی “مخالف” کو — جس میں چین اور روس کو واضح طور پر نشانہ بنایا گیا ہے — جزیرے پر فوجی اڈہ قائم کرنے، فوجیں تعینات کرنے یا حساس شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے سے روکنا ہے، الا یہ کہ امریکہ کی تحریری منظوری حاصل ہو۔ ایک اہم تفصیل یہ بھی ہے کہ یہ شق اس صورت میں بھی نافذ رہے گی اگر گرین لینڈ کو کبھی مکمل آزادی مل جائے۔
جزیرے پر امریکی فوجی انتظامات
ڈونلڈ ٹرمپ نے جزیرے پر امریکی موجودگی کو مزید بڑھانے کے لیے فوری طور پر ایک عمل کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس کے شیڈول کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ ایجنسی فرانس پریس کے حوالے سے متعدد ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کے جنوبی حصے میں تین نئے اڈے جلد کھولے جائیں گے، جو شمالی علاقے میں امریکہ کے زیر استعمال پٹوفک اڈے کے علاوہ ہوں گے۔
رائٹرز نے جمعرات کو خصوصی طور پر یہ انکشاف کیا تھا کہ واشنگٹن اور کوپن ہیگن ایک معاہدے کے قریب تھے۔ رائٹرز کے مطابق مذاکرات میں گرین لینڈ کے علاقے کو “گولڈن ڈوم” کے لیے استعمال کرنے پر بھی بات ہوئی، جو ٹرمپ انتظامیہ کا ایک بہت بڑا اینٹی میزائل شیلڈ منصوبہ ہے جسے امریکی سرزمین کے تحفظ کے لیے تعمیر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ 1951 میں دستخط شدہ اور 2004 میں تجدید شدہ ایک دو طرفہ دفاعی معاہدہ پہلے ہی امریکی فوج کو جزیرے پر تنصیبات تعینات کرنے کی تقریباً کھلی چھوٹ دیتا تھا، بشرطیکہ مقامی حکام کو اطلاع دی جائے۔ ماضی میں امریکہ کے پاس اس جزیرے پر 17 فوجی تنصیبات تک موجود تھیں۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ کا موقف
ڈنمارک اور گرین لینڈ کی جانب سے بیان کا لہجہ تسلی بخش رکھا گیا ہے اور کسی بھی قسم کی خودمختاری کی منتقلی کے ذکر سے احتیاط سے گریز کیا گیا ہے۔ کوپن ہیگن نے اس معاہدے کو “نیٹو اور یورپ کے لیے اچھا” قرار دیا، جبکہ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے اس بات پر زور دیا کہ یہ متن “(ڈنمارک کی) بادشاہت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت نیز گرین لینڈ کے عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتا ہے۔”
رائٹرز کے مطابق ان کے دفاتر نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ معاہدہ شمالی بحر اوقیانوس اور آرکٹک کی سلامتی کو مضبوط کرے گا۔ گرین لینڈ کی حکومت کے سربراہ ینس فریڈرک نیلسن نے اس سمجھوتے پر اطمینان کا اظہار کیا جو جزیرے کی سلامتی کو “یقینی” بناتا ہے اور “اس کے مفادات کو تسلیم کرتا ہے”، اور مزید کہا کہ “اس سے سب کو فائدہ ہوتا ہے۔” امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسے ایسا سمجھوتہ قرار دیا جو “گرین لینڈ سے متعلق ہمارے تمام قومی سلامتی کے خدشات کا جواب دیتا ہے۔”
کیا اب بھی ابہام موجود ہے؟
اگرچہ یہ اعلان ایک اہم سنگ میل ہے، لیکن کئی نکات اب بھی غیر یقینی ہیں۔ رائٹرز نے نشاندہی کی کہ اس مرحلے پر “معاہدے کی وسعت واضح نہیں ہے”، اور میٹ فریڈرکسن کے دفاتر نے واضح کیا کہ متن کے مکمل طور پر نافذ ہونے سے قبل ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں کی جانب سے پارلیمانی منظوری درکار ہوگی — ایک ایسا مرحلہ جس کا ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اعلان میں ذکر نہیں کیا۔
- نئے امریکی اڈوں کی تنصیب کا درست شیڈول ابھی واضح نہیں
- معاہدے کے تحت “حساس سرمایہ کاری” کی درست تعریف طے ہونا باقی ہے
- ڈنمارک اور گرین لینڈ کی پارلیمانی منظوری کا مرحلہ باقی ہے جس کا ٹرمپ نے ذکر نہیں کیا
- معاہدے کی مکمل وسعت اور متن کی تفصیلات ابھی عوامی نہیں کی گئیں
